BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 March, 2007, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بھر میں مظاہرے، لاٹھی چارج

لاہور مظاہرے میں شامل تقریباً دو ہزار وکلاء نے سیاہ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا اور اسلام آباد کے علاوہ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور لاہور میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے ہوئے ہیں۔

حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ، میرپورخاص، خیرپور سمیت تمام اضلاع میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے جلوس نکالے جبکہ لاڑکانہ اور بدین میں شٹر بند ہڑتال کی گئی ہے۔


اسلام آباد
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے سپریم جوڈیشنل کونسل کی جانب سے سماعت ملتوی کیئے جانے کے باوجود معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء سپریم کورٹ پہنچے ہیں۔

اسلام آباد میں منگل سے جاری بارش کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے علاوہ وکلاء علیحدہ علیحدہ جلوسوں کی صورت میں سپریم کورٹ کے باہر پہنچے۔

سہ پہر تک سپریم کورٹ کے سامنے سیاسی کارکنوں اور وکلاء کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی تھی۔ پیپلز پارٹی نے، جس کے کارکنوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی، سیرپم کورٹ کے سامنے علیحدہ جلسہ کیا۔ اس جلسے کی قیادت یوسف رضا گیلانی کر رہے تھے جبکہ بیگم عابدہ حسین اور سردار آصف احمد علی بھی اس مظاہرے میں شامل تھے۔

بدھ کو وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا

بدھ کی صبح سب سے پہلے جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے کارکن ایک جلوس کی صورت میں پولیس کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد عمران خان اپنی جماعت تحریک انصاف کے کارکنوں کے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے شاہراہ دستور پہنچے اور جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے مظاہرے میں شامل ہو گئے۔

پولیس کے دستے رین کوٹ اور چھتریاں لے کر ڈیوٹی پر موجود ہیں۔ پارلیمان کی طرف جانے والی سڑک میں دو جگہوں پر ناکے اور رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو اور عبدالرحیم مندوخیل بھی مظاہرے میں شامل تھے، تاہم متحدہ مجلس عمل کی مرکزی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت ان کی جماعت کا کوئی سرکردہ رہنما مظاہرے میں شامل نہیں تھا۔

وکلاء کا ایک جلوس وکلاء کے مقامی تنظیموں کے نمائندوں کی قیادت میں سب سے آخرمیں سپریم کورٹ کی عمارت تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ سینکڑوں کی تعداد میں کالے کوٹ پہنے وکلاء ’کالا کوٹ کالی ٹائی، مشرف تیری شامت آئی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

سپریم کورٹ کے عمارت کے باہر پہنچے پر یہ جلوس کسی سیاسی پارٹی کے جلوس میں شامل نہیں ہوا اور انہوں نے علیحدہ جلسہ کیا۔

سپریم کورٹ کے معطل چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت عین وقت پر ملتوی کیے جانے کے باوجود بھی شاہراہ دستور کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہیں اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

رکاوٹیں اور خاردار تاریں
سڑک پر رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا کر راستہ بند کردیا گیا ہے۔ سیکورٹی کی تعیناتی سے لگتا ہے کہ فرنٹ لائن میں پولیس ہے جبکہ رینجرز کے نیم فوجی دستے ان کے پیچھے تعینات کیے گئے ہیں۔ جبکہ اہم عمارتوں کی چھتوں پر رینجرز کے جوان کھڑے ہیں۔

کنونشن سینٹر کے نزدیک سڑک پر رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا کر راستہ بند کردیا گیا ہے۔ سیکورٹی کی تعیناتی سے لگتا ہے کہ فرنٹ لائن میں پولیس ہے جبکہ رینجرز کے نیم فوجی دستے ان کے پیچھے تعینات کیے گئے ہیں۔ جبکہ اہم عمارتوں کی چھتوں پر رینجرز کے جوان کھڑے ہیں۔

صوبہ پنجاب
لاہور سے عدنان عادل کے مطابق بدھ کو وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور ہزاروں وکلاء نے چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا جو ایک گھنٹہ جاری رہنے کے بعد پر امن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔

وکلاء صبح لاہور ہائی کورٹ اور ایوان عدل کے احاطوں میں جمع ہوئے اور احتجاجی جلسوں کے بعد دونوں جلوس جی پی او چوک میں جمع ہوگئے۔

مرکزی جلسے میں شریک تقریباً دو ہزار وکلاء نے سیاہ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور بازؤوں پر کالی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔

جلوس میں خواتین کے حقوق کی بعض غیر سرکاری تنظیموں جیسے خواتین محاذ عمل کی کارکن بھی شامل تھیں تاہم وکلاء نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ٹولیوں کو جلوس میں شامل نہیں ہونے دیا۔

اس دوران میں وکلاء صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف پر جوش نعرے بازی کرتے رہے اور گو مشرف گو کے نعرے لگاتے رہے۔

لاہور پولیس نے وکلاء کے جلوس کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور پولیس اہلکاروں کو جلوس کے راستے سے ذرا دور کھڑا کیاگیا تھا۔جب جلوس ریگل چوک پہنچا تو وہاں تعینات پولیس کے دستے جلوس کو راستہ دینے کے لیے چوک سے مزید پیچھے ہٹ گئے۔

پشاور میں پولیس نے وکلاء کو گورنر ہاؤس تک جانے سے روکنے کے لیے خاردار تار لگائے گئے تھے

اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو انصاف ملنے تک وکلاء کا احتجاج جاری رہے گا۔

تاہم بدھ کی رات کو لاہور پولیس نے درجنوں سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جن میں زیادہ تر پیپلز پارٹی کے کارکن شامل تھے۔ لاہور کے ساتھ ساتھ پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی آج عدالتی کام کا بائیکاٹ کیا گیا۔

کوئٹہ
کوئٹہ سے عزیزاللہ کے مطابق کوئٹہ میں بھی وکلاء نے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف ریلی نکالی جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے ۔ وکلاء نے عدالتوں کا بائکاٹ کیا ہے اور علامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وکلاء نے آج ضلع کچہری سے ریلی نکالی جو لیاقت بازار اور پرنس روڈ سے ہوتی ہوئی جب انسکمب روڈ پہنچی تو یہاں پولیس نے ریلی پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جس سے بھگدڑ مچ گئی ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک پولیس اور وکلاء کے مابین بات چیت جاری تھی اور سیاسی پارٹیوں کے رہنما بھی موقع پر پہنچ چکے تھے۔

اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ تربت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے جہاں وکیلوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔

وکلاء نے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی بائیکاٹ اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنے کا بھی اعلان کیا

صوبہ سندھ
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ بدھ کو سندھ میں عدالتی کارروائیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا ہے اور وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالے ہیں۔

کراچی میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سمیت تمام عدالتوں کا وکلاء نے مکمل بائیکاٹ کیا اور سٹی کورٹس سے ایم اے جناح روڈ تک جلوس نکال کر دھرنا دیا۔

اس جلوس کو وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کرنا تھا، مگر پولیس کی ناکہ بندی اور سپریم جوڈیشل کاؤنسل کی سماعت ملتوی ہونے کی وجہ سے یہ مارچ ملتوی کیا گیا ہے۔

کراچی بار کے صدر جاوید افتخار قاضی، نعیم قریشی، عاقل لودھی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کے انٹرویو کو عدلیہ کا میڈیا ٹرائل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ جتنا وقت صدر مشرف کو دیا گیا اتنا وقت چیف جسٹس افتخار محمد کو بھی دیا جائے تاکہ وہ اپنا موقف بیان کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جوڈیشل کونسل کی سماعت ملتوی کر کے ایک اور رکارڈ قائم کیا ہے، کیونکہ تاریخ پر ہی دوسری تاریخ دی جاتی ہے۔

عدلیہ کا میڈیا
 کراچی بار کے صدر جاوید افتخار قاضی، نعیم قریشی، عاقل لودھی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کے انٹرویو کو عدلیہ کا میڈیا ٹرائل قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ جتنا وقت صدر مشرف کو دیا گیا اتنا وقت چیف جسٹس افتخار محمد کو بھی دیا جائے تاکہ وہ اپنا موقف بیان کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے ججوں نے بڑے فیصلے کیئے ہیں، اب بڑے ججوں کا فرض ہے کہ وہ مشترکہ بڑے فیصلہ کریں تاکہ اس ملک کی تقدیر تبدیل ہوجائے۔

اس موقع پر وکلاء نے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی بائیکاٹ اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنے کا بھی اعلان کیا۔

سندھ اسمبلی میں وکلاء پر تشدد کے خلاف مذمتی قرار داد پیش نہیں ہوسکی، اجلاس میں قائد حزب اختلاف نثارکھوڑو نے مذمتی قرار داد پیش کرنے کی اسپیکر سے اجازت طلب کی تو وزیر قانون چودھری افتخار نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ کا معاملہ ہے، اس پر سیاست نہیں کی جاسکتی۔

اسپیکر نے اس پر ووٹنگ کروائی تو قرار داد کی مخالفت میں ستاون اور اس کے حق میں باون ووٹ پڑے۔

پشاور
پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق بدھ کو وکلاء نے مکمل ہڑتال کی۔ وکلاء کی تنظیموں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل کی جانب سے ایک جلوس کا اہتمام کیا گیا جس میں وکلاء نے پشاور بار سے گورنر ہاؤں تک مارچ کیا۔جلوس کے شرکاء نے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔

پولیس نے احتجاجی وکلاء کو گورنر ہاؤس تک جانے سے روکنے کے لیے خاردار تار لگائے ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے بدھ کو مقدمات کی سماعت نہیں کی۔ عدالت اعظمیٰ کے تعلقات عامہ کے افسر ارشد منیر کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس نے آج کوئٹہ جانا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد