BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سماعت ملتوی نہیں کی جاسکتی‘

حکومت نے ہنگاموں کے پیش نظر سماعت ملتوی کیا ہے
جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے وکلاء نے کہا ہے کہ کسی انتظامی حکم کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی۔


سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کونسل کی سماعت تین اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

جسٹس افتخار چودھری کے وکلاء کے پینل کے رکن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک نے کہا ہے کہ مقدمے کی سماعت ملتوی کیئے جانے کے باوجود وکلاء کا احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا وکلاء اکیس مارچ کو ملک گیر ہڑتال کریں گے اور عدالتوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ بائیس مارچ کو پشاور میں وکلاء کا کنوینشن ہو گا۔

منیر ملک نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے سماعت ملتوی کرنے کی کوئی درخواست ہی نہیں کی ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس تعینات نہیں کیا جا سکتا اور اگر رانا بھگوان داس کو بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ بنایا گیا تو وہ وہ اسے بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

جسٹس افتخار کے وکلاء کے پینل کے ایک اور سرکردہ ممبر حامد خان نے کہا کہ کسی عدالت کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ عدالت خود کرتی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے احتجاج کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت ملتوی کرائی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد