پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سترہ صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کیا ہے۔ آئین کےآرٹیکل دو سو نو کے تحت دائر کردہ صدارتی ریفرنس میں جسٹس افتخار پر مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے مندرجہ ذیل نکات رکھے گئے ہیں۔
- اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کو حکومت بلوچستان کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں سیکش افسر بھرتی کرانا۔
- ڈاکٹر ارسلان کا حکومت بلوچستان سے وزارت داخلہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے تبادلہ کرانا۔
- حکومت بلوچستان میں نوکری کے دوران مطلوبہ عرصۂ ملازمت مکمل کیئے بغیر ملازمت کو مستقل کرانا۔
- قواعد اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان کو پولیس سروس میں بھرتی کرانے کی کوششیں کرنا۔
- کوٹے سے زیادہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال اور غیر استحقاقی پروٹوکول پر اصرار کرنا جس کے وہ قانونی طور پر مجاز نہیں تھے۔
- ہیلی کاپٹر اور جہاز مہیا کرنے کا مطالبہ کرنا اور انہیں استعمال کرنا۔
- بی ایم ڈبلیو گاڑی کے استعمال پر اصرار کرنا۔
- زبانی اور تحریری متضاد فیصلے جاری کرنا۔
- مراعات پر اصرار کرنا یا اس سلسلے میں قوانین میں نرمی برتنے پر اصرار کرنا۔
| |  |