BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستعفی ہونے والے ججوں کا ردِعمل

وکلاء تنظیموں کا احتجاج
ملک کے بیشتر حصوں میں وکلاء تنظیموں نے منگل کو بھی احتجاج جاری رکھا
ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں آئینی اداروں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس صورت حال میں وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے۔

منگل کو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے احتجاجاً اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا ان کے علاوہ منگل کو سندھ کے دو مزید سول ججوں نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔

ناصر سعید شیخ نے اپنا استعفی صدر کو بھجوا دیا ہے تاہم انہوں نے اس پر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ارم جہانگیر پہلی خاتون جج ہیں جنہوں نےجسٹس افتخار محمد چودھری کی جبری رخصتی پر استعفیٰ دیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال کرکے جو رویہ رکھا گیا اس کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی تھیں اور انہیں مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا، جس وجہ سے انہوں استعفیٰ دے دیا ۔

انہوں نے کہا کہ’جب ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہے تو لوگوں کو کیا انصاف فراہم کریں گے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اب کیا کریں گی تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اب اللہ مالک ہے۔‘

ارم جہانگیر نے دوسرے ججوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں عزت سے جینا اور عزت کمانی ہے اور اسی لئے اس پیشے میں آئے تھے مگر جہاں عزت نہیں ہے، ہم انصاف فراہم کر رہے ہیں لیکن خود کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا تو اس ملازمت کا کیا فائدہ۔‘

جسٹس جواد خواجہ نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے نام لاہور ہائی کورٹ کے لیٹر پیڈ پر اپنا استعفی لکھا تھا۔

ایک صفحہ کے استعفے میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں سے عدلیہ سے متعلق واقعات رونما ہورہے ہیں جن کی تفصیل میں وہ اس لیے نہیں جائیں گے کہ یہ سب کچھ عوام کے علم میں ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں ذاتی طور پر انہیں بطور جج اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا دشوار لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ خط لکھنے سے چند دن پہلے اس امید کے ساتھ انتظار کیا تھا کہ عدلیہ کو پہنچائے گئے نقصان کی تلافی کے لیے کچھ کیا جائے گا لیکن ان کا یہ انتظار بے سود ثابت ہوا۔

ناروا سلوک
 چیف جسٹس سے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ بلکل ٹھیک نہیں ہے جب جمہوریت اور آئین کی بات ہوتی ہے تو سب کو ایک جیسا تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل چار بھی یہ بات کہتا ہے
مصطفیٰ صفوی

جسٹس خواجہ نے لکھا کہ بہت غور و خوض اور سوچ و بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے پاس اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ اس لیے وہ آئین کے آرٹیکل ایک سو پچانوے کے تحت اپنا استعفیٰ ان کو بھجوا رہے ہیں۔

کراچی شرقی کے سینئر سول جج اور اسٹنٹ سیشن جج مصطفیٰ صفوی نے کہا تھا کہ انہوں نے احتجاجًا استعفیٰ دیا ہے جب عدالت کو ہی آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں تو عام شہری کو کیا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے اگر ایسا رویہ رکھا جارہا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ صفوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر چیف جسٹس کو آئین کے تحت حاصل حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو ایک عام آدمی کی کیا حالت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم جب قانون اور آئین کی بات کرتے ہیں تو اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کے خلاف ہو رہا ہے‘۔

مصطفیٰ صفوی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ بلکل ٹھیک نہیں ہے جب جمہوریت اور آئین کی بات ہوتی ہے تو سب کو ایک جیسا تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل چار بھی یہ بات کہتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود تو وہاں موجود نہیں تھے مگر انہوں نے ٹی وی پر دیکھا کے چیف جسٹس سے کیسا رویہ اختیار کیا گیا، وکلاء پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آئینی ادارہ میدانِ جنگ بن گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے حکم نامے میں یہ لکھا تھا کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنایا گیا ہے، اب جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تو انہوں نے انیس سو پچانوے کے قانون کے تحت کہا کہ جسٹس افتخار کو جبری رخصتی پر بھیج دیا گیا ہے۔

مصطفیٰ صفوی کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِ قانون کل کو کہیں گے کہ انہوں نے پورے پاکستان کو جبری رخصتی پر بھیج دیا ہے تو یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ وہ وزیرِ قانون ہیں۔

انہوں نے کہا: ’یہ درست ہے کہ میرے خاندان کی گزر بسر کا انحصار اسی ملازمت پر تھا مگر میں اس سے قبل وکالت کرتا تھا جو اب بھی جاری رکھوں گا‘۔

سینئر سول جج راجیش چندر راجپوت کے مطابق وہ جسٹس افتخار محمد چودھری سے کیے جانے والے سلوک پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہو رہے ہیں

پنو عاقل کے سینئر سول جج راجیش چندر راجپوت نے ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری سے جس طر ح کا سلوک کیا جا رہا ہے، وہ اس پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہو رہے ہیں۔

سینئر سول جج راجیش چندر راجپوت پیر کی صبح پنو عاقل کی عدالت پہنچے۔ انہوں کوئی عدالتی کارروائی نہیں چلائی۔ کچھ دیر تک دفتری کام نمٹانے کے بعد وہ اپنا استعفٰی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سکھر کے دفتر میں جمع کرانے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کے تمام اسباب استعفیٰ میں لکھے گئے ہیں اور اب وہ ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔

چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی معطلی
سنیچر کو لاہور میں وکلاء کا مظاہرہ
’عوام کا جن‘
’جن بوتل سے نکل آیا تو اندر کون کرے گا‘
’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد