BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال، بائیکاٹ اور مظاہرے جاری

سندھ میں اتوار کو بھی وکلاء نے احتجاج کیا
پاکستان میں جاری وکلاء احتجاج کے پیش نظر مسلم لیگ ن کی طرف سے لندن میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس ملتوی کردی ہے جبکہ ملک بھر میں وکلاء تنظیموں نے مظاہروں اور ہڑتالوں کو سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء پاکستان میں حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتیں وکلاء کے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہونے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔

آل پارٹیز کانفرنس کو ملتوی کرنے کا اعلان راجہ ظفر الحق کی صدارت میں ہونے ہفتے کی رات کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شرکت نہیں کی اور انہوں نے اکیس مارچ کو اسلام آباد میں اپنی مجلسِ عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

نواز شریف کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس اس ماہ کی تیئس اور چوبیس مارچ کو لندن میں منعقد ہونا تھی۔

گو حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں جسٹس افتخار کے خلاف حکومتی اقدام پر صداے احتجاج بلند کر رہی ہیں لیکن وہ تاحال مشترکہ طور پر کوئی مربوط احتجاجی لائحہ عمل بنانے میں ناکام ہیں۔

تاہم ملک کے تمام اضلاع میں وکلاء کی تنظیموں نے جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے خلاف اتحجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار کو کراچی میں شباب ملی، پاسبان اور عوامی تحریک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ شباب ملی کی جانب سے علامتی طور پر عدلیہ، میڈیا، پارلیامینٹ کو پھانسی دی گئی ۔

ان مظاہروں میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جنرل نے چیف جسٹس کے معطل کرکے ان کے خاندان کو قید کردیا ہے، اس حقیقت کو جب میڈیا اور وکلا سامنے لائے تو انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

وکلاء کے مظاہرےاور علامتی بھوک ہڑتال تقریباً تمام ضلعی عدالتوں میں جاری ہیں

وکلاء کے احتجاج کے سلسلے میں پیر کو بڑا مظاہرہ کراچی میں کیا جائے گا جہاں کراچی بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور سٹی کورٹ سے پریس کلب تک احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔

کراچی بار ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری نعیم قریشی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پیر کو وکلا کی جنرل باڈی میٹنگ ہوگی ، جس میں وزیر اعلیٰ ہاوس تک مارچ کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا جائے گا۔

لاہور میں جہاں ہفتے کو وکلاء کے احتجاج کے دوران پچاس سے زیادہ وکلاء زخمی ہو گئے تھے وہاں بھی سوموار کو عدالتوں کا ایک گھنٹے کا علامتی بائیکاٹ کیا جائے گا اور ایوانِ عدل میں دوبارہ مظاہرہ کیا جائے گا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ سنیچر کو گرفتار کیئے گئے وکلاء اور دیگر افراد کو پولیس نے رات گئے رہا کردیا گیاہے۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خاور بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سو کے قریب وکلا پکڑ ے گئے تھے اورجنہیں ان کے اطلاع کے مطابق رہا کردیا گیا پینتیس وکلاء کا آخری گروپ تھانہ ریس کورس سے رہا کیا گیا۔

خاور بشیر نے کہا کہ ایوان عدل ضلعی کچہری،سیشن کورٹ ماڈل ٹاؤن اور کینٹ کچہری میں ایک گھنٹے کے بھوک ہڑتالی اور احتجاجی کیمپ کا سلسلہ جاری رہے گا اور اعلان کےمطابق اکیس مارچ کو مکمل ہڑتال ہوگی۔

صوبہ سرحد میں وکلاء کی تنظیم پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جبری رخصت پر بھیجنے سے پیدا شدہ صورتحال پر آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کےلئے دونوں تنظیموں کا اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا ہے۔


اتوار کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بہلول خٹک ایڈووکیٹ اور سرحد بار کونسل کے رکن خلیل اللہ نے کہا کہ اجلاس میں شرکت کےلئے وکلاء کی تمام تنظیموں کو دعوت دی گئی ہے۔

وکلاء کے رہنماؤں نے کہا کہ چیف جسٹس کو غیر فعال کرنے کے خلاف ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی کل سے احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کو صبح ساڑھے دس بجے سے لیکر ساڑھے گیارہ بجے تک ایک گھنٹے کےلئے تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرحد بار کونسل کے زیر اہتمام بائیس مارچ کوپشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کا ملک گیر کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں صوبہ سرحد سمیت ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں سے وکلاء کے نمائندے شرکت کرینگے۔

ادھر صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع سے ملنے والی اطلاعات میں بھی وکلاء تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف پیر کے روز دوبارہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں وکلاء تنظمیوں کا احتجاج جاری ہے بہاولنگر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ان چار اراکین کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے جنہوں نے وزیراعلی پنجاب کی جانب سے بلائی گئے لائرز کنونشن میں شرکت کی تھی۔

کراچی میں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طور پر مظاہرے کیئے ہیں

بہاولنگر ڈسٹرکٹ بار کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان چاروں وکلاء نے معذرت کی ہے اور وکلاء تنظمیوں کی طرف دی گئی ہر کال میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جبری رخصتی کے خلاف سندھ میں احتجاج جاری ہے۔

وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے وکلا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ امن امان کا مسئلہ پیدا نہ کریں ، پیر کو وزیر اعلیٰ ہاوس کی جانب مارچ کی صورت میں وکلا اور پولیس میں تصادم کے امکانات موجود ہیں۔

شریف الدین کا انکار
شریف الدین نے سرکارکی وکالت سےانکارکردیا ہے۔
 جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار معاملہ
حکومتی کامیابی سرکاری افسران کے حلف ناموں پر
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
زباں بندی؟
وکلاء احتجاج کو’سنسر‘ کرنے کی مذمت
بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
معطلی اور مظاہرے
عدالتی بحران پر عام شہری کیا کہتے ہیں؟
اسی بارے میں
جسٹس افتخار جبری چھٹی پر
17 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد