رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | جیو ٹی وی نے ’حکومتی پابندی‘ کی وجہ سے کامران خان کا خصوصی پروگرام نشر نہیں کیا |
پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے نجی ٹیلی ویژن جیو نیوز کے دفتر پر حملے کو حکومت کی ’سوچی سمجھی سازش‘ قرار دیا ہے۔ سنیچر کو پشاور میں ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کے ایچ یو جے کے صدر جان افضل، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور سینیئر صحافی افتخار علی نے جیو نیوز کے دفتر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔ بعد میں کے ایچ یو جے کے صدر جان افضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ’معطل‘ چیف جسٹس کے کیس سے توجہ ہٹانے کےلیے آزادئ صحافت پر حملہ کیا ہے۔ ’جن پولیس اہلکاروں نے جیو نیوز پر حملہ کیا وہ کس کے ماتحت تھے؟ یہ حکومت ہی تو ہے جنہوں نے یہ حملہ کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کسی ایس پی اور ایس ایس پی لیول کی افسر کا کام نہیں بلکہ حملے کا حکم اعلی سرکاری عہدیداروں نے دیا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی معطلی کے معاملے پر جس طرح کا عوامی رد عمل سامنے آیا ہے اس سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی اور ’اس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ نیا ڈرامہ جیو نیوز کے دفتر پر حملے کی صورت میں رچایا گیا۔‘ جان افضل نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ جس حکمران نے بھی پریس کو دبانے کی کوشش کی ہے وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چند پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس واقعے میں ملوث اصل ملزمان کو بےنقاب کیا جائے اور انہیں ’واقعی سزا‘ دی جائے۔ کے ایچ یو جے کے صدر نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے اصل ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کی تو صحافیوں کا صوبائی سطح پر احتجاج جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز اسلام آباد میں جیو نیوز کے دفتر پر پولیس کے حملے کی صحافیوں کی تمام تنظیموں نے ملک گیر سطح پر مذمت کی ہے اور اس کے خلاف تمام بڑے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ |