رفاقت علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | جسٹس افتخار کے حق میں کئی شہروں میں وکلاء مظاہرے کر رہے ہیں |
صدر جنرل پرویز مشرف نے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جبری چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ جنرل مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیج کر جسٹس افتخار محمد چودھری بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا تھا۔ وفاقی وزارت قانون کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔  |  جسٹس رانا بھگوان داس اگر چاہیں گے تو سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نئے سرے سے ہوسکتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس اس وجہ سے مقرر کیا تھا کہ رانا بھگوان داس چھٹی پر تھے۔  وفاقی وزیر قانون وصی ظفر |
وصی ظفر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو 1975 میں پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔وزیر قانون نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس جب چھٹی سے واپس آئیں گے تو ان کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس رانا بھگوان داس اگر چاہیں گے تو سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل بھی نئے سرے سے ہوسکتی ہے۔ وصی ظفر نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس اس وجہ سے مقرر کیا تھا کہ رانا بھگوان داس چھٹی پر تھے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ججوں کی چھٹی کی منظوری چیف جسٹس کرتے ہیں اور حکومت کسی جج کو چھٹی ختم کرکے واپس آنے کا نہیں کہہ سکتی۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس آئین کے مطابق ہے اور وکلاء کا احتجاج بلاجواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ’عزت مآب‘ چیف جسٹس کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ہر فیصلے کو تسلیم کرے گی۔ |