BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس انکوائری: ’یہ ہاتھ کس کا ہے؟‘

جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی
جسٹس افتخار کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا جا رہا ہے(تصویر بشکریہ روزنامہ نیشن)
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی کی انکوئری کرنے والے ٹرائبیونل کے سربراہ کو سارے دن کی کارروائی کے بعد بھی اس سوال کا جواب نہ مل سکا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بالوں سے کس نے پکڑ ا اور ان کے کوٹ کے بٹن کیسے ٹوٹے؟

پشاور ہائی کورٹ کےجج اعجاز افضل خان کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ تیرہ مارچ کو ہونے والے واقعے کی انکوائری کرنے کے لیے ٹرائبیونل کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے اور انہیں اپنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر سپریم کورٹ آف پاکستان کو پیش کرنی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےمنگل کو اسلام آباد کے کمشنر خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی، اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل افتخار احمد، سپرنٹنڈنٹ پولیس ظفر اقبال اور ڈی ایس پی جمیل ہاشمی کے علاوہ تیرہ مارچ کو چیف جسٹس کے ساتھ مبینہ بد سلوکی کے واقعہ کو رپورٹ کرنے والے ذرائع ابلاغ کے کئی نمائندوں کے بیانات قلمبند کیے۔

 چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے پیدل جانے کے فیصلے نے انتظامیہ کو ششدر کر دیا تھا۔جب چیف جسٹس کو بلوچستان ہاؤس لے جایا گیا تو وہاں موجود سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے جسٹس افتخار کو گاڑی میں سپریم کورٹ میں جانے پر قائل کیا۔
کمشنر خالد پرویز

انکوئری جج نے ہرگواہ سے یہ پوچھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا بال کس نے پکڑے اور ان کے کوٹ کے بٹن کیسے ٹوٹ گئے۔

اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل افتخار احمد نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق کسی پولیس اہلکار نے چیف جسٹس کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی ہے اور وہ تو صرف انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

جب انسپکٹر جنرل کو اخبار میں چھپنے والی تصویر دکھائی گئی جس میں کسی اہلکار کا ہاتھ جسٹس افتخار کے سر پر ہے تو انسپکٹر جنرل کا موقف تھا کہ انہیں پتہ نہیں ہے کہ یہ ہاتھ کس کا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ جب چیف جسٹس افتخار کو پیدل جانے سے روکا جا رہا تھا تو وہ اس موقع پر وہاں موجود تھے۔انسپکٹر جنرل پولیس کے مطابق تصویر میں نظر آنے والے ہاتھ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چیف جسٹس کے بال کھینچے جا رہے ہیں۔

انکوائری جج تمام گواہوں سے اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی جمیل ہاشمی سے متعلق بھی سوالات پوچھتے رہے ہیں لیکن جب جمیل ہاشمی کو بیان قلمبند کرنے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے بیان دیا کہ وہ تو چیف جسٹس کے سامنے بھی نہیں آئے اور ان سے متعلق خبر جھوٹ کا پلندہ ہے۔

اسلام آباد کے کمشنر خالد پرویز نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے پیدل جانے کے فیصلے نے انتظامیہ کو ششدر کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ چیف جسٹس کو بلوچستان ہاؤس میں لے گئے تو وہاں موجود سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے جسٹس افتخار کو گاڑی میں سپریم کورٹ میں جانے پر قائل کیا۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس افتخار کی منت سماجت کے بعد اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ پیدل چلنے کی بجائے بلوچستان ہاؤس میں داخل ہوں جہاں ان سے بات چیت ہو سکے۔

 کسی پولیس اہلکار نے چیف جسٹس کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی ہے اور وہ تو صرف انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور تصویر میں نظر آنے والے ہاتھ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چیف جسٹس کے بال کھینچے جا رہے ہیں۔
آئی جی پولیس اسلام آباد

ڈی ایس پی جمیل ہاشمی جب عدالت میں آئے تو انکوئری جج نے ان پوچھا کہ کیا جسٹس افتخار محمد چودھری نے کبھی ان کی سرزنش کی تھی۔ جمیل ہاشمی نے کہا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی عدالت میں پیش ضرور ہوئے ہیں لیکن انہیں نہ تو کبھی سرزنش کی گئی اور نہ ان کو کمرہ عدالت سے نکالا گیا۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ ایک اخباری رپورٹر نےان سے متعلق کہانی گھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تیرہ مارچ کو چیف جسٹس کے گھر کو جانے والی سڑکوں پر لگے ہوئے پولیس ناکوں کے انچارج تھے لیکن وہ چیف جسٹس کے نزدیک نہیں گئے۔

اس موقع ہر ڈی ایس پی جمیل ہاشمی یہ کہہ کر رونے لگے کہ اس رپورٹ کی وجہ ان کی ساری دنیا میں بدنامی ہوئی اور اس کے بھائی بیرون ملک سے فون کر کے پوچھ رہے ہیں انہوں نے ملک کے چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کیوں کی؟۔ڈی ایس پی نے چیلنج کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ چیف جسٹس افتخار کے سامنے آئے تو وہ ہر سزا کے لیے تیار ہیں۔

ٹرائبیونل کی کارروائی بدھ کو بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد