BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدسلوکی کی انکوائری رپورٹ پیش

جسٹس افتخار کے ساتھ مبینہ بدسلوکی
چیف جسٹس کے بال پکڑنے والے شخص کی نشاندہی نہیں ہو سکی
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعہ کی تحقیق کرنے والے ٹرائیبونل نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے۔

تیرہ مارچ کو جب ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کے سامنے پیشی کے لیے پیدل جانے پر اصرار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اور اس دوران چیف جسٹس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز افضل خان کو انکوئری جج مقرر کیا تھا۔
جسٹس اعجاز افضل خان نے انکوئری رپورٹ مرتب کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے اور اس کے مندرجات ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

لاہور میں وکلاء اور صحافیوں پر پولیس کے لاٹھی چارج سے متعلق رپورٹ مرتب کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے دو ہفتے کی معیاد بڑھا دی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں نے انکوئری جج اعجاز افضل خان کے سامنے اپنے بیانات میں چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کی تردید کی اور کہا کہ وہ اس موقع پر موجود تھے لیکن ان میں سے کسی شخص نے چیف جسٹس کے ساتھ بد سلوکی کا کوئی مظاہرہ نہیں دیکھا۔

جسٹس اعجاز افضل خان تمام پولیس اہلکاروں سے اس تصویر کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہے جس میں جسٹس افتخار محمد کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے کسی اہلکار نے چیف جسٹس کے بال پکڑنے والے شخص کی نشاندہی نہیں کی۔

ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تصویر میں نظر آنے والے پولیس اہلکار اے ایس آئی محمد سراج کے علاوہ کسی اور کو نہیں پہچانتے۔ تصویر میں محمد سراج نے چیف جسٹس کا راستہ روک رکھا ہے۔

 جسٹس اعجاز افضل خان تمام پولیس اہلکاروں سے اس تصویر کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے رہے جس میں جسٹس افتخار محمد کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کے کسی اہلکار نے چیف جسٹس کے بال پکڑنے والے شخص کی نشاندہی نہیں کی۔

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں کسی نے بھی چیف جسٹس کے قریب نظر آنے والے افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ ڈی ایس پی جمیل ہاشمی انکوئری ٹرائبیونل کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ وہ تو چیف جسٹس کے قریب بھی نہیں گئے لیکن اخبارات نے ان کو مجرم قرار دے دیا۔

انکوئری ٹرائیبونل نے خفیہ ادارے کے کسی اہلکار کا بیان قلمبند نہیں کیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے پچھلے ایک ہفتے سے جاری انکوئری میں سولہ لوگوں کے بیانات قلمبند کیے۔ گواہوں میں اسلام آباد کے کمشنر خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی، انسپکٹر جنرل پولیس افتخار احمد، سپرٹنڈنٹ پولیس ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، ایس ایچ او رخسار مہدی اور اے ایس آئی محمد سراج شامل ہیں۔

انکوئری جج کے سامنے روزنامہ ایکسپریس کے رپورٹر محمد جمشید، نیشن اخبار کے فوٹوگرافر سجاد قریشی، اے آر وائی کے رپورٹر صابر شاکر، پرائیوٹ چینل آج کے خالد جمیل ،خبریں اخبار کے یاسر ملک اور روزنامہ نیوز کے شکیل انجم نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد