حزب اختلاف کا یوم احتجاج، پرامن مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف پیر کو اے آر ڈی کی اپیل پر ملک کےتمام بڑے شہروں میں سیاسی کارکنوں نے پرامن جلسے اور مظاہرے کیئے جبکہ اس دوران وکلاء احتجاج اور عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ بھی جاری رہا۔ پاکستان کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس اور جلسے منعقد کیئے گئے جبکہ وکلاء نے پنجاب بھر میں پورا دن عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ دیگر صوبوں میں بھی وکلاء نے حزب مخالف کے یوم احتجاج کی حمایت میں ایک گھنٹے تک علامتی بائیکاٹ کیا اور احتجاجی کیمپ لگائے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں لاہور کے نیلا گنبد چوک کے پاس سے احتجاجی جلوس نکالا جا رہا ہے جبکہ راولپنڈی ضلع کچہری میں بھی احتجاجی جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ پشاور میں اے آرڈی اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے علیحدہ علیحدہ جلوس اور جلسے کرنے کا پروگرام ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما راجہ پرویز اشرف نے دعویٰٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے چار سو کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور راولپنڈی آنے والے راستوں پر پولیس نے ناکے لگا کر بسوں اور ویگنوں کی تلاشی شروع کردی ہے اور سیاسی کارکنوں کو اتارا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ راولپنڈی پولیس کے اہلکار پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے گھروں میں زبردستی گھس گئے اور خواتین سے بدسلوکی کی۔ ان کے مطابق قاضی سلطان محمود، سردار شوکت حیات اور خالد نواز بوبی سمیت راولپنڈی، لاہور، ملتان، جہلم، چکوال اور دیگر شہروں سے ان کی درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کو جلسے جلوسوں سے روکا جا رہا ہے جبکہ حکومتی جلسوں کے لیے سرکاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے دوہرا معیار اختیار کر رکھا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ اتوار کی شام پنجاب کے شہر ملتان میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے اجلاس پر چھاپہ مار کے پولیس نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فخر امام ،ملک مختار اعوان اور رکنِ قومی اسمبلی نورالحسن سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ تاہم بعد ازاں فخر امام کو رہا کر دیا گیا تھا۔ کراچی میں بی بی سی اردو کے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں وکلاء نے ہائی کورٹ سمیت تمام عدالتوں کا ایک گھنٹہ بائیکاٹ کیا اور سٹی کورٹ سے پریس کلب تک مارچ کیا۔ بغیر کسی پیشگی اعلان کے وکلا نعرے لگاتے ہوئے ایم جناح روڈ اور سندھ اسمبلی سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے۔ وکلاء کے راستے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی تھی۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی جانب سے بھی ریگل چوک سے پریس کلب تک جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کی قیادت پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رضا ربانی اور قائم علی شاہ کریں گے۔ اس احتجاج سے قبل پولیس کی بھاری تعداد ریگل چوک پہنچ چکی ہے۔ واضح رہے کہ اکیس مارچ کو لندن میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی’آے آر ڈی‘ کی جانب سے چھبیس مارچ کو پاکستان بھر میں چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف یوم احتجاج منانے کے اعلان کیا گیا تھا اور بعد میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ | اسی بارے میں پیر کو اپوزیشن کا احتجاج، گرفتاریاں25 March, 2007 | پاکستان مذاکرات مسترد، استعفے کا مطالبہ22 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار، بار کونسلوں سے خطاب21 March, 2007 | پاکستان ملک بھر میں مظاہرے، لاٹھی چارج21 March, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||