BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 March, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات مسترد، استعفے کا مطالبہ

وکلاء کنونشن
کنونشن میں ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء کے نمائندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں وکلاء تنظیموں کی طرف سے منعقدہ کنونشن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو فوری طورپر بحال کیا جائے ۔

صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر صدارت سے الگ ہوجائیں جبکہ ملک میں انتخابات قوی اتفاقِ رائے سے قائم کی گئی حکومت کے تحت کرائے جائیں۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل کی جانب سے منعقدہ اس کنونشن میں ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء کے نمائندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔

پشاور ہائی کورٹ اور کنونشن ہال کو رنگ برنگے بینرز اور پلے کارڈز سے سجایا گیا تھا، جن پر نعرے تحریر تھے: گو مشرف گو، عدلیہ کی آزادی تک حکومت کی بربادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی، آئین کو اصلی حالت میں بحال کرو، مستعفی ججوں کو سلام اور عدلیہ بچاؤ پاکستان بچاؤ۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل منیر اے ملک نے حکومت کی طرف مذاکرات کی

حکومت کے خاتمے تک تحریک
 وکلاء کی یہ تحریک اب صدر جنرل پرویز مشرف کی اقتدار کے خاتمے پر ہی اختتام کو پہنچی گی
منیر اے ملک
پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی یہ تحریک اب صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے پر ہی اختتام کو پہنچی گی۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کا پہلا مطالبہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر مشروط بحالی اور ان کے ریفرنس کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کا کڑا احتساب ہے۔

منیر ملک نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ حکومت کے خاتمے کے لیے پارلمینٹ سے مستعفی ہوجائیں اور وکلاء کی تحریک میں شامل ہو کر ان کا ساتھ دیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ’معطل‘ چیف جسٹس کے وکلاء قاضی محمد انور اور حامد خان نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور پشاور بار سے خطاب کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھائیس مارچ کو چیف جسٹس راولپنڈی بار سے خطاب کرینگے جبکہ اگلے ہفتے وہ پشاور خطاب کرنے آئیں گے۔ کنونشن کے اختتام پر وکلاء نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا جس کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک، حامد خان اور قاضی انور کر رہے تھے۔ مظاہرین نے

وکلاء متحد
 وکلاء عدلیہ کے وقار کی خاطر متحد ہیں اور اگر کوئی بھی وکیل احتجاج سے ہٹ کر عدالت میں پیش ہوگا تو اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی
ہادی شکیل
نعرے بازی کرتے ہوئے پشاور پریس کلب تک مارچ کیا۔ اس موقع پر ہائی کورٹ سے پریس کلب تک سٹرک مکمل طور پر بند رہی۔ پولیس کی بھاری نفری اس موقع پر موجود تھی۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ’معطلی‘ کے خلاف بلوچستان میں جمعرات کو بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء عدلیہ کے وقار کی خاطر متحد ہیں اور اگر کوئی بھی وکیل احتجاج سے ہٹ کر عدالت میں پیش ہوگا تو اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔

ادھر قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے گزشتہ روز وکلاء کے جلوس پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے واقعے کے حوالے سے از خود لیے گئے نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد خان لاشاری کو انکوائری جج مقرر کیا ہے، جنہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔

بلوچستان کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کے سامنے پیش ہوئے۔

’شبہے کا وقت‘
کابینہ وہ گھوڑا جسے جب چاہیں، ہانک دیں
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد