پیر کو اپوزیشن کا احتجاج، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس سے متعلق حکومتی کارروائی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر پیر کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جارہا ہے۔ پولیس اس احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور گرفتاریاں کر رہی ہے۔ اے آرڈی کے رہنماؤں کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ادھر پیپلز لائرز فورم کے عہدیدار سینٹر لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پنجاب بار کونسل نے بھی پیر کو پورے دن کی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتوار کی شام پنجاب کے شہر ملتان میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے اجلاس پر چھاپہ مار کے پولیس نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فخر امام ،ملک مختار اعوان اور رکنِ قومی اسمبلی نورالحسن سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
زیرِ حراست فخر امام نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھانے میں ان کے ہمراہ کم ازکم پینتیس دوسرے کارکن اور رہنما بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج کی حکمت عملی طے کرر ہے تھے جب پولیس نے چھاپہ مار کے انہیں گرفتار کرلیا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال پولیس نے کوئی مقدمہ تو درج نہیں کیا ہے لیکن انہیں بتادیا گیا ہے کہ وہ زیر حراست ہیں۔ سید فخر امام نے کہا کہ جس ملک میں خود چیف جسٹس زیر حراست ہو وہاں کسی دوسرے شہری کی بلاجواز حراست یا اس پر پولیس تشدد کی بات بے معنی ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کا احتجاج پُرامن ہے جس میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن کی کال شامل نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک بھر میں گرفتاریاں ہورہی ہیں اورگرفتار شدگان کی تعداد سنیکڑوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے دہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ ملک بھر میں حکومتی جلسے ہورہے ہیں ریلیاں نکالی جارہی ہیں لیکن اپوزیشن کو دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے نام پر دبا دیا جاتاہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اٹھائیس مارچ کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے جلسے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا اٹھائیس مارچ کو دفعہ ایک سو چوالیس نافذ نہیں ہوگی اور کیا اس کا نفاذ چھبیس مارچ کو ہونا ضروری ہے جس دن اپوزیشن نے ایک پرامن احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا ان کی جماعت نے ملک بھر میں مرکزی صوبائی اور ڈویژنل سطح پر پرامن ریلیاں نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے جو ہر صورت نکالی جائیں گی۔ اس احتجاج کی کال اے آر ڈی نے دی تھی اور مجلس عمل نے اس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کی شام پریس کلب لاہور میں مجلس عمل کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ اور تحریک انصاف پنجا ب کے صدر احسن رشید نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرفتاریوں کی مذمت کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مجلس عمل نے اپنے کارکنوں کو صوبائی سطح کے علاوہ اضلاع کی سطح پر احتجاج کرنے کا ہدایت کی ہے۔ پاکستان میں وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اس ہڑتال کی کال انہوں نے نہیں دی ہے لیکن ان کا احتجاج جاری ہے، وہ اپوزیشن کے احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کے احتجاجی کیمپوں تک آنے والےجلوسوں کا استقبال بھی کیا جائے گا۔
سیاسی جماعتوں کے وکلاء ونگز نے لاہور پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرنےکا اعلان کیا ہے۔ پیپلز لائرز فورم کے عہدیدار سینٹر لطیف کھوسہ نے کہا کہ پنجاب بار کونسل نے اظہار یک جہتی کے لیے پیر کو پورے دن کی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہائی کورٹ کے دروازے پر اپوزیشن کے اس جلوس کا استقبال کی جائے گا جوکل صبح لاہور کے نیلا گنبد سے روانہ ہوگا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خاور بشیر نے کہا کہ ان کا معمول کا احتجاج جاری ہے اور پیر کو ریٹائرڈ جنرل حمید گل ایوان عدل میں احتجاجی کیمپ سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ سنا ضرور ہے کہ پنجاب بارکونسل نے پورے دن کی ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس بارے میں ان سے ابھی تک باقاعدہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ | اسی بارے میں جسٹس بھگوان داس کراچی میں21 March, 2007 | انڈیا بھگوان داس: عدالتی سفر کے چالیس سال21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان کی واپسی پر بحث 21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش16 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||