جسٹس بھگوان کی واپسی پر بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس رانا بھگوان داس کی ملک واپسی پر ایک اور بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا غیر مسلم چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہو سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس رانا بھگوان داس سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں اور پہلے کئی دفعہ قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ کچھ مذہبی جماعتوں کا موقف ہے کہ غیر مسلم پاکستان کی سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکتا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین غیر مسلم کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے سےنہیں روکتا اور رانا بھگوان داس جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔ جمیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام میں کسی غیر مسلم کا ملک کی سب سے اعلی عدالت کے چیف جسٹس بننے کی کوئی گنجائش نہیں اور پوری اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ کے سامنے ہوتی ہے اور اگر چیف جسٹس ہی غیر مسلم ہو تو شرعی معاملات کو نمٹانا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن آئینی ماہرین کے مطابق غیر مسلم کے چیف جسٹس بننے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اس سے پہلے بھی جسٹس کارنیلس پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ جسٹس کارنیلس عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور سب سے لمبے عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کے مطابق آئین میں غیر مسلم کے چیف جسٹس بننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ سعیدالزماں صدیقی نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ جسٹس کارنیلس جب چیف جسٹس بنے اس وقت 1973 کا آئین وجود میں نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کہا جنرل ضیاالحق کے دور میں کی گئی قانون سازی کو آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں کچھ اسلامی دفعات آئین میں شامل ہوگئیں لیکن غیر مسلم کے چیف جسٹس بننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان پر لازم نہیں ہے کہ وہ شریعت اپیلٹ بینچ کی سربراہی کرے ۔ انہوں نے کہا کہ شریعت ایپلیٹ بینچ کی سربراہی سپریم کورٹ کا کوئی جج بھی کر سکتا ہے اور سود سے متعلق مقدمے کی سربراہی جسٹس خلیل الرحمن نے کی تھی حالانکہ وہ چیف جسٹس نہیں تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق اصولی طور پر غیر مسلم کے چیف جسٹس آف پاکستان بننے میں کوئی روکاوٹ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی غیر مسلم جج سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کی سربراہی نہیں کر سکتا لیکن چیف جسٹس کسی بھی مسلمان جج کو شریعت ایپلیٹ بینچ کا سربراہ مقرر کر سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بھگوان داس کو سرکاری پروٹوکول20 March, 2007 | انڈیا جسٹس بھگوان داس کراچی میں21 March, 2007 | انڈیا مستعفی ہونے والے ججوں کا ردِعمل19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||