بھگوان داس کو سرکاری پروٹوکول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو دلی سے پاکستا نی سفارتخانے کے کچھ افسران نے لکھنؤ آ کر پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس سے ملاقات کی ہے۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے افسران نے جسٹس بھگوان داس کو سرکاری پروٹوکول دیا اور وہ انہیں اپنے ساتھ دلی لیجانے آئے ہیں تاکہ وہ وہاں سے واپس پاکستان جا سکیں۔ واضح رہے کہ جب سے پاکستان میں عدالتی بحران کا آغاز ہوا ہے جسٹس بھگوان داس نجی رخصت پر ہندوستان آئے ہوئے تھے۔ ان کی رخصت بائیس مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ لکھنؤ میں اپنے قریباً دو ہفتے کے قیام کے دوران رانا بھگوان داس کی مصروفیات کی نوعیت زیادہ تر مذہبی رہی ہے اور اس دوران وہ ذرائع ابلاغ سے مسلسل بچتے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھنؤ میں اپنے قیام کا آخری دن بھی ’گیتا گیان ستسنگ‘ کے سلسلہ میں منعقد ایک تقریب میں گزارا۔ ایک مقامی سندھی کاروباری شخص نے بتایا کہ کہ بھگوان داس منگل کی صبح لکھنؤ شہر کے مضافات میں ایک فارم ہاؤس پر منعقد ہونے والے ستسنگ میں شریک ہوئے۔ جسٹس بھگوان داس سندھی ہندو ہیں اور یہاں لکھنؤ میں وہ ایک مقامی ہندو خاتون سادھو نیلو بھگوان کے ’ستسنگ‘ یعنی ہندوؤں کی مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ سادھو نیلو بھگوان خاص طور پر ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا پر عبور کے لیے جانی جاتی ہیں اور بھگت انہیں ستسنگ کے دوران عقیدت سے سنتے ہیں۔ بی بی سی نے کئی ایسے افراد سے بات کی جو جسٹس بھگوان داس سے ملتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا بھگوان داس اور ان کے خاندان کے دیگر افراد ماضی میں بھی لکھنؤ آتے رہیں۔ اپنے حالیہ قیام میں جسٹس بھگوان داس بعض دیگر بھگتوں کے ساتھ لکھنؤ کے کرشنا نگر علاقے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہ رہے ہیں۔ ایک پڑوسی دیوان چند کیولانی نے بی بی سی کو بتایا ’جسٹس بھگوان داس ایک مذہبی اور روحانی شخصیت ہیں اور بہت ہی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش16 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس کہاں ہیں؟12 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||