BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس رانا بھگوان داس لکھنو میں

رانا بھگوان داس
ہندوستان میں قیام کے دوران جسٹس بھگوان داس میڈیا سے بات چیت کرنے سے گریز کر رہے ہیں
پاکستان کی سپریم کورٹ کے سینیئرترین جج رانا بھگوان داس کی ہندوستان میں موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ وہ ان دنوں ملک کے شمالی شہر لکھنؤ میں ایک عام ہندو بھگت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جسٹس بھگوان داس سندھی ہندو ہیں اور یہاں لکھنؤ میں وہ ایک مقامی ہندو سادھو نیلو بھگوان کے ’ستسنگ‘ یعنی ہندوؤں کے مذہبی اجلاس میں حصہ لے رہے ہیں۔

جسٹس بگھوان داس بعض دیگر بھگتوں کے ساتھ لکھنؤ میں واقع کرشنا نگر علاقے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہ رہے ہیں۔

ایک پڑوسی دیوان چند کیولانی نے بی بی سی کو بتایا ’جسٹس بگھوان داس ایک مذہبی اور روحانی شخصیت ہیں اور بہت ہی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔‘

مسٹر دیوان چند کا کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس نے ان کے مکان پر ہونے والے ستسنگ میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس بھگوان داس سے فقط مذہبی امور پر بات چيت ہوتی ہے اور انہوں نے سیاست اور دیگر امور پر بات چیت نہیں کی۔

جسٹس بھگوان داس نے سیاست اور دیگر امور پر بات چیت نہیں کی: دیوان چند

ہندوستان میں قیام کے دوران جسٹس بھگوان داس ذرائع ابلاغ سے براہ راست بات چیت کرنے سے گریز کر رہے ہیں تاہم وہ ایک دوسرے شخص کے ذریعہ بات چیت کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جسٹس بھگوان داس بائیس مارچ کو پاکستان واپس جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جب سے پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل اور جبری چھٹی پر بھیجا گیا ہے جسٹس بھگوان داس کی ہندوستان میں موجودگی کی بازگشت ضرور تھی لیکن ان کے جائے قیام کے بارے میں فقط قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔

گزشتہ ہفتے ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد