BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 March, 2007, 16:28 GMT 21:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور پولیس تشدد، انکوائری شروع

لاہور وکلا احتجاج
سترہ مارچ کو احتجاج کرتے وکیلوں پر پولیس کے لاٹھی چارج اور پتھراؤ سے درجنوں وکلاء زخمی ہوگئے تھے
لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے سترہ مارچ کو پولیس کی طرف سے صحافیوں اور وکلاء پر کیے گئے مبینہ تشدد کی تفتیش شروع کر دی ہے اور متاثرہ فریقین سے کہا کہ وہ اس انکوائری میں شامل ہونے کے لیے اپنے حلفی بیانات جمع کروائیں جبکہ بلوچستان میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معطلی کے خلاف آج بھی وکلاء نے علامتی بھوک ہڑتال کی ہے اور عدالتوں کا ایک گھنٹے کے لیے بائیکاٹ کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کیے گئے انکوائری افسر اور لاہور ہائی کورٹ کے جج زاہد حسین کے سامنے آج پنجاب کے اعلی افسران پیش ہوئے جن میں انسپکٹر جنرل پولیس احمد نسیم، لاہور پولیس کےسربراہ ملک اقبال، صوبہ کے سیکرٹری داخلہ خسرو پرویز، سیکرٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب آفتاب اقبال شامل تھے۔

سترہ مارچ کو عدلیہ کے بحران پر وکیلوں کے احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج اور پتھراؤ سے درجنوں وکلاء زخمی ہوگئے تھے جبکہ صحافیوں نے بھی پولیس تشدد کی شکایات کی تھیں۔

انکوائری جج نے کہا کہ وہ اس تفتیش کے ذریعے ان پولیس اہلکاروں کی نشان دہی کریں گے جو مبینہ تشدد کے ذمہ دار تھے اور ان وجوہات کا تعین کریں گے جن کی بنا پر یہ واقعات ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسے طریقوں کی نشان دہی کریں گے جن سے آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

جج کا کہنا تھا کہ انکوائری ایسے طریقے سے کی جائے گی جس سے یہ کم سے کم مدت میں مکمل ہوسکے۔

انکوائری جج نے وکلاء اور صحافیوں سے کہا کہ جو لوگ اس انکوائری میں حصہ لینا چاہتے ہوں وہ اگلے سوموار تک اپنے بیانات حلفی داخل کروا دیں۔

انکوائری جج کو یہ بھی بتایا گیا کہ سترہ مارچ کو صحافیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانے اور اس کی تلافی کی رقم کا تعین کرنے کے لیے صحافیوں کے نمائندوں اور پنجاب کے اعلی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اب اس معاملہ کی اگلی سماعت سوموار کو ہوگی۔

ادھر بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ ان کا احتجاج جسٹس چوہدری افتخار کی بحالی تک جاری رہے گا۔ بار روم میں آج پانچ وکلاء علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھے جن میں سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

اس کے علاوہ بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے بتایا ہے کہ ان کی اپیل پر آج وکلاء کے جلوس پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے علاوہ صوبے میں فوجی آپریشن اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف وکلا نے احتجاج کیا ہے۔

اسی بارے میں
چیف جسٹس آف پاکستان معطل
09 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد