BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 March, 2007, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ظالم معاشرہ زیادہ دن نہیں چل سکتا‘

جسٹس افتخار چودھری(فائل فوٹو)
جسٹس افتخار نے صدارتی ریفرنس پر کوئی بات نہیں کی (فائل فوٹو)
پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ قومیں کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم پر نہیں۔

نو مارچ کو بطور چیف جسٹس ’غیر فعال‘ بنائے جانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء کے جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن وہ اس موقع پر اپنے ریفرنس سے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ریفرنس سے متعلق کوئی بھی بات ان کے وکلاء ہی کریں گے۔

جسٹس افتخار نے کہا کہ پاکستان کا آئین عدلیہ کی آزادی کا ضامن ہے اور آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی ملک معاشی ترقی بھی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ معاشرہ جہاں ظلم کا دور دورہ ہو زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران حضرت علی کے اس قول کا بھی حوالہ دیا کہ ایک غیر مسلم معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ایسا معاشرہ جہاں ظلم ہو زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔

جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی انسان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ منجانب اللہ ہوتا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے وکلاء کے ایک بڑے جلوس میں ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں پہنچے۔ ہزاروں کی تعداد میں وکلاء چیف جسٹس کی تقریر سنے کے لیے ہائیکورٹ کے پنڈال میں موجود تھے۔

تقریر سے قبل تقریب کی انتظامیہ کی جانب سے بار بار سٹیج سے اعلان کیا گیا کہ نعرے بازی سے گریز کیا جائے اور دورانِ تقریر جب کچھ وکلاء نے چیف جسٹس کے حق اور جنرل مشرف کی مخالفت میں نعرے بازی تو جسٹس افتخار نے کہا کہ اگر نعرے بازی بند نہ کی گی تووہ تقریب سے چلے چائیں گے۔

وکلاء کی تقریب میں کسی سیاسی جماعت کو جھنڈا دیکھنے میں نہیں آیا تاہم کچھ لوگوں نے قائد اعظم کی تصویر اور پاکستان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

وکلاء نے چیف جسٹس کو معطل کیے جانے کے بعد سب سے پہلے استعفی دینے والے سول جج سعید خورشید اور ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

چیف جسٹس افتخار نے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کا وہ مشہور قول بھی دہرایا کہ اگر ملک کی عدالتیں لوگوں کو انصاف مہیا کر رہی ہیں تو برطانیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اعلان کیا کہ وہ تیس تاریخ کو پشاور ہائی کورٹ بار سے خطاب نہیں کریں گے اور اس سلسلے میں اپنے پروگرام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد