فیصلہ غیر جانبداری سے: چیف جسٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے تحت کام کرے گی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ قانون، آئین اور شعور کے مطابق اور بغیر کسی کی طرف داری کے کیا جائے گا۔ کراچی میں حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس بھگوان داس نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے تحت عدلیہ کا وقار اور عزت بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ریفرنس میں تبدیلی کے امکان کے بارے انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ ریفرنس اتھارٹی کا معاملہ ہے، اس سے سپریم جوڈیشل کونسل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے جوڈیشل کونسل پر عدم اعتماد کے اظہار پر انہوں نے کہا کہ ’ہم ان کے دلائل سن کر پھر فیصلہ کریں گے‘۔ جسٹس بھگوان داس نے چیف جسٹس افتخار محمد سے ملاقات کرنے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ۔ قائم مقام چیف جسٹس سے جب سوال کیا گیا کہ کیا دوسرے ججوں کے بارے میں ریفرنسوں کا فیصلہ بھی یہ جوڈیشل کونسل کرے گی تو ان کا جواب تھا کہ جسٹس بھگوان داس نے سپریم جوڈیشل کونسل میں تبدیلی کے بارے میں بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ کے جو تیسرے جج شامل کیے گئے تھے وہ کونسل میں شامل نہیں رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس نے سنیچر کو قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری میں سنیچر کی صبح ساڑھے دس بجے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے جسٹس بھگوان داس سے حلف لیا تھا۔ حلف برداری کی اس تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینیئر جج صاحبان اور اعلیٰ افسران شریک تھے۔ جسٹس جاوید اقبال جمعہ کی شام کو ہی کوئٹہ سے کراچی پہنچ گئے تھے۔ پاکستان میں عدالتی بحران کے وقت جسٹس بھگوان داس چھٹی پر انڈیا گئے ہوئے تھے۔ ان کی غیرموجودگی میں جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیرفعال بنانے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے دیگر مطالبات کے ساتھ جسٹس بھگوان داس کو سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کا بھی مطالبہ بھی کیا تھا۔ | اسی بارے میں جسٹس بھگوان داس کراچی میں21 March, 2007 | انڈیا بھگوان داس: عدالتی سفر کے چالیس سال21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان کی واپسی پر بحث 21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش16 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||