ملک گیر احتجاج، پر امن مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف پیر کو اے آر ڈی کی اپیل پر ملک کےتمام بڑے شہروں میں سیاسی کارکنوں نے پرامن جلسے اور مظاہرے کیئے جبکہ اس دوران وکلاء احتجاج اور عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ بھی جاری رہا۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق تحریک بحالی جمہوریت کی کال پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، ملتان، کوئٹہ، مظفرآباد اور پشاور سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ہزاروں سیاسی کارکنوں، غیر سرکاری اور مزدور تنظیموں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں میں جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل تھے۔ تمام شہروں میں یہ مظاہرے مکمل طور پر پُر امن رہے۔ کراچی: احتجاج میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، جے یوپی، اے این پی، لیبر پارٹی، مہاجر قومی موومنٹ اور پشتون خواہ ملی عوامی پاٹی کے کارکن بھی شریک تھے۔
مظاہرین سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی، نثار کھوڑو، قائم علی شاھ، معراج الہدیٰ ، زین انصاری اور دیگر نے خطاب کیا اور پنجاب میں کارکنوں پر تشدد کی مذمت کی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا اس وقت وفاق خطرے میں ہے اس لیے جنرل پرویز مشرف فوری مستعفی ہوجائیں اور شفاف اور غیر جانبدرانہ انتخابات کروائے جائیں۔ اندرون سندھ بھی اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں شامل جماعتوں نے ڈویژنل ہیڈ کواٹروں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص میں احتجاجی جلوس نکالے، جن میں جماعت اسلامی کے کارکن اور وکلاء بھی شریک تھے۔ صوبہ سندھ میں حزب مخالف کے یوم احتجاج کی حمایت میں ایک گھنٹے تک علامتی بائیکاٹ کیا اور احتجاجی کیمپ لگائے۔ لاہور:
بعض شرکاء کے لیے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ یہ عام لوگوں کی مشکلات کے اظہار کا موقع بھی تھا جو سینہ کوبی کرتے ہوئے مہنگائی کا واویلا کر رہے تھے۔ گزشتہ چند احتجاجی مظاہروں کے برعکس پیر کو انتظامیہ نے سیاسی جماعتوں کو نیلا گنبد پر اجتماع کرنے اور وہاں سے لاہور ہائی کورٹ کی عمارت تک جلوس کی صورت میں جانے کی اجازت دے دی تھی۔ پولیس کی بھاری نفری موجود تھی لیکن اس نے احتجاج کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ہائی کورٹ پر وکلاء اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے سیاسی کارکنوں کے جلوس کا استقبال کیا۔ مظاہرین نے کچھ دیر ہائی کورٹ کے سامنے چوک میں دھرنا دیے رکھا اور بعد میں پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔
حالیہ برسوں میں لاہور میں یہ پہلا سیاسی مظاہرہ تھا جس میں حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتیں شریک تھیں۔ پیپلز پارٹی کے مصطفے کھر، سردار آصف احمد علی اور شاہ محمود قریشی، مسلم لیگ نواز کے سردار محمد کھوسہ کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، حافظ سلمان بٹ اور امیرالعظیم بھی ایک جگہ نظر آرہے تھے۔ دوسری جانب وکلا بھی سیاسی جماعتوں کے احتجاج میں شریک ہوئے۔ آج لاہور کی عدالتوں میں وکلاء نے عدالتی کام کا جزوی بائیکاٹ کیا۔ پنجاب کے دوسرے بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھی وکلا نے ہڑتال کی اور اے آر ڈی کی جماعتوں نے مظاہرے کیے۔ حافظ آباد میں وکلاء کے جلوس اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی کی اطلاعات بھی ہیں۔ راولپنڈی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو معطل کرنے کے خلاف اے آر ڈی کی طرف سے نکالے گئے اس جلوس میں خواتین سمیت درجنوں لوگ شامل تھے جو نئے نئے نعرے لگا رہے تھے۔مظاہرین نے ’بھوکے رہ گئے میں اور تو، سارا کھا گیا جی ایچ کیو‘ اور ’مشرف مہنگائی ہائی ہائی‘ کے نعرے لگائے۔
احتجاج میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اکرام چودھری اور دیگر وکلاء نے بھی شرکت کی۔ رہنماؤں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک میں عدالتی بحران کا ذمہ دار جنرل پرویز مشرف کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آمریت کو برقرار رکھنے کے لیے عدلیہ پر وار کیا گیا ہے لیکن اس بحران میں جرنیلوں کو شکست اور عدلیہ کو فتح حاصل ہوگی۔ ادھر اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل ممبران اسمبلی نے ایک گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی جس میں میمونہ ہاشمی، حافظ حسین احمد، میاں محمد اسلم اور مشاہداللہ خان نے شرکت کی۔ مظفرآباد: مظفرآباد شہر میں ہونے والے مظاہرے کا اہتمام بے نظیر بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی نے کیا تھا۔مظاہرین نے سیاہ جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں اور وہ ’گو مشرف گو ’کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اس موقع پر کشمیر کے اس علاقے میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سیکریڑی جنرل چوہدری لطیف اکبر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے یکے بعد دیگرے تمام اداروں کو تباہ کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پارلیمنٹ کو تباہ کیا گیا، پاکستان کے اہم رہنماؤں کو ملک سے باہر رہنے پر مجبور کیا گیا اور اب عدلیہ اور صحافت کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا موجودہ حکمرانوں نے ایسی صورت پیدا کردی ہے جس کے باعث پاکستان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیگر اضلاع باغ، راولاکوٹ ، کوٹلی اور میر پور میں بھی بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام مظاہرے کیے گئے۔ چیف جسٹس کے معطلی کے بعد کشمیر کے اس علاقے میں صرف وکلاء ہی احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن پیر کو پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت نے مظاہرے کیے ہیں۔ کوئٹہ احتجاجی ریلی کوئٹہ پریس کلب سے روانہ ہوئی جو سرکلر روڈ جناح روڈ اور کندھاری بازار سے ہوتے ہوئے میزان چوک پہنچی۔ مظاہرین اس دوران اپنی اپنی پارٹیوں کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے اورحکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ میزان چوک پر پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز عوامی نیشنل پارٹی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے قائدین نے خطاب کیا اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کو غیر قانونی اور غیر ائینی اقدام قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نفیس صدیقی نے اپنی تقریر میں غیر جانبدار عوری حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پیر کو بھی ضلع کچہری میں وکلاء کی علامتی بھوک ہڑتال جاری رہی اور ایک گھنٹے کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ پشاور: | اسی بارے میں پیر کو اپوزیشن کا احتجاج، گرفتاریاں25 March, 2007 | پاکستان مذاکرات مسترد، استعفے کا مطالبہ22 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار، بار کونسلوں سے خطاب21 March, 2007 | پاکستان ملک بھر میں مظاہرے، لاٹھی چارج21 March, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||