BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوڈیشل کونسل: تشکیل کو چیلنج‘

’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
جس طرح صدر کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی مقدمات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے لیے بنائی جانے والے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار جوڈیشل نے تصدیق کی ہے کہ سپریم کورٹ کی مختلف برانچوں میں تین سے زیادہ ایسی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ سیکریٹریٹ ان درخواستوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر ہونے والی پیٹیشن میں ممتاز قانون داں ایڈوکیٹ ڈاکٹر فاروق حسن نےنقطہ اٹھایا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کوئی ریفرنس دائر ہی نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر فاروق حسن کا موقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 209 میں جس کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کی جاتی ہے، واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں اور ہائی کورٹوں کے دو سینئر چیف جسٹسوں پر مشتمل ہو گی۔

سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس طرح صدر کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی مقدمات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ فاروق حسن نے کہا چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ کے سینئر جج کو ہی قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا جا سکتا ہے اور سپریم کورٹ نے ججز کیس میں اس نقطے کی تشریح کر دی ہے جو ملکی قانون کی حثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنانے سے متعلق نوٹیفیکیشن غیر آئینی ہے اور پاکستان کا آئین یا قانون اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

درخواست گذار کا موقف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ممبران جن کے خلاف بقول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف شکایت درج ہو چکی ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل ہونے کے اہل ہی نہیں ہیں۔

پیٹیشنر نےموقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس کو صدر ہاؤس میں بلا کر بٹھایا گیا اور اسی دوران قائم مقام چیف کو حلف بھی دے دیا گیا۔

ایڈوکیٹ غنی چوہدری نے بھی اپنی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔

مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی پیشی
جسٹس افتخار کی سماعت پر مظاہرے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
جسٹس افتخارچیف جسٹس معطل
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید کا تقرر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد