BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 March, 2007, 18:15 GMT 23:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج کی’حراست‘، متضاد دعوے
حکومت حزب اختلاف اور وکلاء پر الزام عائد کرتی ہے وہ اس کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں
چیف جسٹس کے عہدے سے معطل کیئے جانے والے جسٹس افتخار محمد چودھری کے بارے میں ان کے وکلاء کا دعوی ہے کہ وہ بدستور حراست میں ہیں جبکہ حکومت ان دعوی کو جھوٹ اور لغو قرار دے رہی ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل چودھری اعتزاز احسن نے بدھ کو بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں دعوی کیا ہے ان کے موکل کو بدستور حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ابھی تک ان کو یا کسی دوسرے وکیل کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

تاہم وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے اعتراز احسن کے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا اور اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ چودھری محمد افتخار نے کب چودھری اعتزاز کو اپنا وکیل مقرر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چودھری اعتزاز اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ منگل کی شام کو وہ اور ان کے ساتھ دوسرے وکلاء حامد خان اور علی احمد کرد چیف جسٹس چودھری محمد افتخار سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں پر تعینات پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

چودھری اعتزاز نے ان حکومتی الزامات کی سختی سے تردید کی کہ وہ اور دیگر وکلاء اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدھ کی صبح بھی وہ اور دیگر وکلاء قائم مقام چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ جاوید اقبال سے ملنے گئے تھے لیکن انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا چیف جسٹس کے سٹاف میں شامل نصیر خان کے ذریعے انہوں نے ملاقات کا وقت مانگا تھا لیکن ان کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں ایک سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ ایک مشاورتی ادارہ ہے اور اس کے پاس چیف جسٹس کو معطل کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک جسٹس افتخار محمد چودھری پر لگائے جانے والے الزامات یا چارج شیٹ سے ہی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نعیم بخاری کے خط میں جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کوئی الزام بھی اتنا سنگین نہیں کہ جس کا دفاع نہ کیا جا سکے۔

چودھری اعتزاز نے کہا کہ اگر انہیں اپنے مؤکل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تو یہ ’فیئر ٹرائل‘ یا منصفانہ مقدمہ نہیں ہو گا۔

وزیرِ اعلی پنجاب نے وکلاء کے ملک گیر احتجاج کے بارے میں کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ سارے ملک کے وکلاء یا وکلاء کی اکثریت ہڑتال اور احتجاج کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف چند وکلاء احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ بدھ کو لاہور میں انہوں نے ایک وکلاء کنونشن منعقد کیا تھا جس میں دو ہزار کے قریب وکلاء نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ دو سو نو کے تحت وزیر اعظم نے ایک ریفرنس چیف جسٹس کے خلاف صدر کو بھیجا تھا جو صدر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کے پابند تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ معاملہ چیف جسٹس کا تھا اس لیے ان کو چیف جسٹس کے عہدے سے علیحدہ کیا گیا تاکہ وہ سیریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک پیش ہو سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد