BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جج کے صاحبزادے، جنرل کے داماد

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار پر اپنے بیٹے کے کیرئر کو سنوارنے کے لیے اپنی حیثیت کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام بھی ہے
پاکستان میں جاری عدالتی بحران کے مرکزی کردار ڈاکٹر ارسلان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے اور میجر جنرل ضیاءالحق کے داماد ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں اس بناء پرریفرنس بھیجا گیا کہ انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے کیرئیر کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے اور اس کے ساتھ وہ رویہ اپنایا جو کسی عام شہری کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ڈاکٹر ارسلان کے سسر میجر جنرل ضیا الحق (ریٹائرڈ) نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ڈاکٹر ارسلان ان کے داماد ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ہونے والے ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر ارسلان کو انٹرمیڈیٹ میں گریڈ سی حاصل کرنے کے باوجود چیف منسٹر کے کوٹے سے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے ریفرنس میں درج ہے کہ ڈاکٹر ارسلان کو جون 2005 میں میڈیکل آفیسر تعینات کیا گیا۔ بطور میڈیکل آفیسر تعیناتی کے صرف چھبیس روز کے اندر انہیں محکمہ صحت میں بطور سکیشن آفیسر مقرر کر دیا گیا۔

 قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی پیش کر سکتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی کوئی بااثر شخصیت ڈاکٹر ارسلان کی ترقی میں دلچسپی رکھتی تھی۔

ڈاکٹر ارسلان کی بلوچستان کے محکمہ صحت میں بطور سیکشن آفیسر تعیناتی کے نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے پہلے ہی وفاقی حکومت نے ‘مفاد عامہ‘ میں ڈاکٹر ارسلان کی خدمات مانگ لیں۔

بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت کی درخواست کو مان لیا اور ڈاکٹر ارسلان کو گریڈ سترہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے مقرر کیا گیا۔مئی دو ہزار چھ میں ڈاکٹر ارسلان کو اگلے گریڈ میں ترقی دے کی ان کو گریڈ اٹھارہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے مقرر کیا گیا جہاں سے ان کو نیشل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کے لیے بھیج دیا گیا۔

صدارتی ریفرنس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف کوئی ایسی دستاویزی شہادت پیش نہیں کی گئی ہے جس میں انہوں نے حکومت کے کسی اہلکار کو اپنے بیٹے کو ترقی دینے کے لیے کہا ہو۔

تاہم اس ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد نے اسٹیبلمشنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کو گھر پر طلب کیا اور ان دباؤ ڈالا کہ وہ ڈاکٹر ارسلان کی محکمہ پولیس میں شمولیت کے لیے وزیر اعظم کو سمری بھیجیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے دوران یہ دلائل بھی پیش کر سکتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی کوئی بااثر شخصیت ڈاکٹر ارسلان کی ترقی میں دلچسپی رکھتی تھی۔

اسی بارے میں
حکومت نے صدر سے کیا کہا
19 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد