BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 April, 2007, 06:14 GMT 11:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سماعت ملتوی، وکلاء کے مظاہرے

احتجاج کے موقع پر معطل چیف جسٹس کے حامی صدر کی حمایت میں نعرے لگانے والوں سے الجھ پڑے
سپریم جوڈیشل کونسل میں پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی مزید سماعت تیرہ اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفاقت علی کے مطابق اس موقع پر حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی کہ وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

منگل کے روز جب صبح دس بجے ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو اس وقت تک وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کے سامنے جمع ہوچکی تھی۔

سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ نواز کا ایک کارکن ترازو لے کر گھومتا رہا جس کے ایک پلڑے میں جوتا رکھا تھا اور دوسرا خالی تھا۔

اسی جماعت کے کارکنوں نے لکڑی کا ایک فریم بنایا ہوا تھا جو پھانسی گھاٹ کا نمونہ تھا۔ اس میں چار بوتوں کی گردن میں رسیاں باندھ کر انہیں پھانسی پر لٹکایا ہوا تھا۔ ان چاروں کتبوں جن کی گردن میں رسیاں بندھی ہوئی تھیں ان کے نام عوام، عدلیہ، صحافت اور سیاستدان لکھے تھے۔

اسلام آباد میں ہمارے دوسرے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق سیاسی کارکنوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، متحدہ مجلس عمل اور تحریک انصاف کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ ’معطل‘ چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے دوران کئی ایک دلچسپ واقعات پیش آئے۔ کورٹ کی عمارت کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے ایک وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انور آفریدی نے فوج کی نوکری کے دوران ملنے والے تمام تمغے احتجاجاً واپس کردیے۔ انہوں نے تمغے ہوا میں اچھالتے ہوئے پھینک دیے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر موجود وکلاء میں منگل کے دن پہلے کی نسبت زیادہ تناؤ پایا جاتا تھا۔ وکلاء کی صفوں میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب کالے کوٹوں میں ملبوس ایک گروپ نے صدر پرویز مشرف کے حق میں نعرے لگانا شروع کر دیے جس پر وہاں موجود معطل چیف جسٹس محمد افتخار چودھری کے حامی ان سے الجھ پڑے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ جا رہے ہیں

صدر مشرف کے ایک حامی نے بعد میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کا نام فیاض ہے، اس کا تعلق پنجاب سے ہے اوروہ ایک حساس ادارے کا ملازم ہے۔ معطل چیف جسٹس کے حامیوں نے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے صدر مشرف کا ایک پتلا بھی جلایا۔

سندھ میں عدالتوں کا بائیکاٹ
سندھ میں منگل کو تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور وکلا نے احتجاج جلوس نکالے۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سمیت تمام عدالتوں کی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔

سٹی کورٹس سے وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا جو ایم اے جناح روڈ اور برنس روڈ سے ہوتا ہوا سندھ ہائی کورٹ پہنچا۔ جہاں سے ہائی کے وکلاء بھی اس میں شامل ہوگئے۔ حیدر آباد سے نامہ نگار علی حسن نے بتایا کہ اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، نوابشاہ، سانگھڑ اور دادو میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلوس نکالے۔

سندھ میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی جلوس نکالے

وکلاء نے منگل کو پورے ملک میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ پولیس ایک روز قبل سے ہی اس احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرتی رہی اور پیر کی رات اپوزیشن کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پنجاب میں احتجاج
لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا ہے کہ منگل کو شہر میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیموں کے الگ الگ جلوس اور احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے اور پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے پولیس کی بھاری نفری موجود رہی لیکن اس نے احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

لاہور میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس کے بعد سینکڑوں وکیل حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان عدل سے روانہ ہوئے ہائی کورٹ سے مزید وکیل اس جلوس میں شامل ہوئے جلوس مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچا۔

وکیلوں نے مال روڈ پر وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے جن پر حکومت کے حق میں نعرے درج تھے مظاہرین نے یہ بینر اتار کر پھاڑ دیے اور انہیں آگ لگا دی۔

وکیلوں نے کپڑے کا بنا ایک کھلونا کتا بھی اٹھا رکھا تھا جسے وہ جوتے مارتے رہے بعد میں پنجاب اسمبلی کے سامنے اس کھلونے کتے کو بھی آگ لگا دی گئی۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر احسن بھون نےانیس اپریل کو وکیلوں ایک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔

اس قبل ہائی کورٹ کے احاطے میں بھی وکیلوں کا ایک احتجاجی جلسہ ہوا تھا جس میں مقررین نے کہا کہ تھا کہ وہ فوج کی بالادستی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتے ہیں۔

وکلاء برادری نے جسٹس افتخار چودھری کی معطلی پر مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے

لاہورمیں اپوزیشن نے الگ سے احتجاجی مظاہرہ کیا اور چند درجن احتجاجی مظاہرین مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی قیادت میں ناصر باغ سے ایوان عدل تک گئے وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’گو مشرف گو”،آزادی آزدی، اور ’عدلیہ کو آزاد کرو ”۔

اپوزیشن کا جلوس جب ایوان عدل تک پہنچا تو وکلاء کے جلوس سے الگ رہا اور کچھ فاصلے پر نعرے بازی کرتا رہا۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لوگوں کی کم تعداد کے بارے میں کہا کہ زیادہ تر لوگ اسلام آباد گئے ہیں اور لاہور کا مظاہرہ علامتی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن متحد ہوجائے گی ایک گرینڈ الانئس تشکیل دیدیا جائے گا اور ایک کم از کم ایجنڈا پر متفق ہوجائے تو یہی عوام جو گھر بیٹھے نفرت کر رہے ہیں وہ اپوزیشن کا کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

اطلاعات کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہرے کیے اورجلوس نکالے ملتان سے نکلنے والے احتجاجی جلوس میں وکلاء کے علاوہ سیاسی کارکن اور رہنما بھی شامل تھے۔
فیصل آباد میں وکیلوں نے جلوس نکالا سٹی ناظم کے دفترکے سامنے دھرنا دیا۔
جلوس پر بعض مقامات پر دکانداروں نے گل پاشی کی۔

گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان،بہاولپور،بہاولنگر،جھنگ سمیت مختلف اضلاع میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

 مارچ میں موجود شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر’چیف جسٹس کو بحال کرو اور عدلیہ پر پابندیاں نامنظور نامنظور’ کے الفاظ درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’ گو مشرف گو اور عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہی گی جنگ رہی گی ’ کے نعرے بھی لگائے۔

اس سے قبل ساری رات پولیس اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں اور ان کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارتی رہی۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے دوسو سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کے صدر امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو کل ہی نظر بند کردیا گیا تھا ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے ان کی جگہ منگل کے مظاہروں کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب میں نافذ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جلسے جلوس نکالنے کی ممانعت ہے تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت سے کیے گئے وعدے کے مطابق اگر اپنا احتجاج انسانی زنجیر بنانے تک محدود رکھا تو ممکن ہے ان پر سختی نہ کی جائے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے وکیلوں کے ہر طرح کے پرامن احتجاجی مظاہروں میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے اپنے ایک بیان میں توقع ظاہر کی ہے کہ وکیلوں کی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کواپنا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرنے دیں گی۔

صوبہ سرحد میں احتجاجی مظاہرے
پشاور سے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ملک کے دیگرشہروں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے معطلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے نکالے گئے اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔

صوبائی دارلحکومت پشاور میں منگل کو سرحد بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر پشاور ہائی کورٹ ، سیشن کورٹس اور تمام ماتحت عدالتوں میں ججز موجود رہے تاہم مقدمات کے پیروی کےلئے کوئی وکیل نہیں آیا۔

بعد میں سرحد بارکونسل اور پشاورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا ایک مشترکہ اجلاس ہائی کورٹ کے بار روم میں منعقد ہوا جس میں وکلاء کے ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے سیشن کورٹ تک مارچ کیا۔ مارچ میں موجود شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر ’ چیف جسٹس کو بحال کرو اور عدلیہ پر پابندیاں نامنظور نامنظور’ کے الفاظ درج تھے۔مظاہرین نے اس موقع پر ’ گو مشرف گو اور عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہی گی جنگ رہی گی ’ کے نعرے بھی لگائے۔

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اشتیاق ابراہیم نے اعلان کیا کہ افتخار محمد چوہدری کی بحالی تک وکلاء کی تحریک جاری رہی گی۔

ادھر سرحد کے دیگر اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس کے معطلی کے خلاف وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس منعقد کیے۔

صدارتی ریفرنس پر سماعت
سپریم جوڈیشل کونسل، جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت بدھ اکیس مارچ کو کرنے والی تھی لیکن بند کمرے میں ہونے والی یہ سماعت شروع ہونے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے کوئی وجہ بتائے بغیر اسے تین اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

 سماعت کے اس التواء کے بعد رانا بھگوان داس کو پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور خود سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس کو بھی چیلنج کیا گیا۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی تقرری کے خلاف بھی مذہبی بنیاد پر ایک درخواست عدالت میں دائر ہوئی ہے۔

سماعت کے اس التواء کے بعد رانا بھگوان داس کو پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور خود سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس کو بھی چیلنج کیا گیا۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی تقرری کے خلاف بھی مذہبی بنیاد پر ایک درخواست عدالت میں دائر ہوئی ہے۔

جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس پر احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے اور کئی ججوں نے استعفے دیے ہیں۔ وکلاء نے بھی صدارتی ریفرنس اور چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی پر مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

جب سے جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہوا ہے روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی کاموں کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے جس کا دورانیہ اب بڑھا دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اٹھارو روز سے اضلاع کی بار ایسوسی ایشنز میں وکیلوں کے ہڑتالی کیمپ لگے ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار کیس
حکومت ریفرنس پر تذبذب کا شکار ہوگئی ہے
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
چھٹے دن بھی احتجاج جسٹس کی پیشی
جسٹس افتخار کی سماعت پر مظاہرے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد