’کارروائی کھلی عدالت میں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل نے پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر مشرف کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی مزید سماعت تیرہ اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے تین گھنٹے تک بند کمرے میں کارروائی کی۔ اس موقع پر حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے قاصر ہیں۔ کونسل کی کارروائی کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ منگل کے روز تمام کارروائی ایک نقطے پر موکوز رہی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی کہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ ریفرنس کی کارروائی کھلی عدالت میں کی جائے۔
حکومت کے وکلاء نے کھلی عدالت میں کارروائی کی مخالفت کی۔ حکومتی وکلاء کا موقف ہے کہ پاکستان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے جتنے بھی مقدمے ہوئے ہیں ان میں کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔ سرکاری وکیل خالد رانجھا اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس اخلاق اور جسٹس شیخ شوکت کے خلاف ریفرنس کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی تھی اور موجودہ ریفرنس کی سماعت بھی بند کمرے میں ہی کی جائے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کا موقف تھا کہ ان دونوں مقدموں میں الزمات کا سامنا کرنے والے ججوں نے بند کمرے میں کارروائی کی حمایت کی تھی جبکہ اس بار جسٹس افتخار محمد خود کھلی عدالت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو کھلی عدالت میں کرنے سے متعلق دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تیرہ اپریل کی سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق اعتراضات پر بحث ہو گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس چوہدری افتخار حسین (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس صبیح الدین احمد(چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ) پر مشتمل ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک نئی درخواست دائر کی جس میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہی نہیں کیا سکتا اور ان کے خلاف ریفرنس غیر آئینی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن، حامد خان، اور طارق محمود نے کی۔ جسٹس افتخار کے وکیل قاضی انور دل کا دورہ پڑنے کی وجہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک اور علی احمد کرد ذاتی وجوہات کی وہ پیش نہ ہوئے۔ حکومت کی طرف ایڈوکیٹ خالد رانجھا، ایڈوکیٹ راجہ عبد الرحمن، وسیم سجاد، اور امان اللہ کنرانی پیش ہوئے۔سندھ کے سابق ایڈوکیٹ جنرل راجہ قریشی پچھلی پیشی پرحکومت کی نمائندگی کی لیکن منگل کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||