BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 April, 2007, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارروائی کھلی عدالت میں‘

جسٹس افتخار کے حق میں منگل کو بھی مظاہرے ہوئے
سپریم جوڈیشل کونسل نے پاکستان کے’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر مشرف کی طرف سے دائر کردہ ریفرنس کی مزید سماعت تیرہ اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے تین گھنٹے تک بند کمرے میں کارروائی کی۔


اس موقع پر حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست دی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

کونسل کی کارروائی کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ منگل کے روز تمام کارروائی ایک نقطے پر موکوز رہی۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی کہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ ریفرنس کی کارروائی کھلی عدالت میں کی جائے۔

وکلا
سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران وکلاء سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرتے رہے
جسٹس افتخار کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل سے کہا کہ جب الزامات کا سامنا کرنے والا شخص کھلی عدالت میں کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

حکومت کے وکلاء نے کھلی عدالت میں کارروائی کی مخالفت کی۔ حکومتی وکلاء کا موقف ہے کہ پاکستان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے جتنے بھی مقدمے ہوئے ہیں ان میں کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔

سرکاری وکیل خالد رانجھا اور اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس اخلاق اور جسٹس شیخ شوکت کے خلاف ریفرنس کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی تھی اور موجودہ ریفرنس کی سماعت بھی بند کمرے میں ہی کی جائے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کا موقف تھا کہ ان دونوں مقدموں میں الزمات کا سامنا کرنے والے ججوں نے بند کمرے میں کارروائی کی حمایت کی تھی جبکہ اس بار جسٹس افتخار محمد خود کھلی عدالت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو کھلی عدالت میں کرنے سے متعلق دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تیرہ اپریل کی سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق اعتراضات پر بحث ہو گی۔

 تیرہ اپریل کی سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق اعتراضات پر بحث ہو گی
حامد خان
جسٹس افتخار محمد چودھری نے پانچ میں دو ججوں پر متعصب ہونے کا الزام عائد کر رکھا ہے۔جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چودھری افتخار حسین کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج رکھے تھے لہذا ان کو ان دو ججوں پر اعتماد نہیں ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس چوہدری افتخار حسین (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس صبیح الدین احمد(چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ) پر مشتمل ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک نئی درخواست دائر کی جس میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہی نہیں کیا سکتا اور ان کے خلاف ریفرنس غیر آئینی ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کی وکالت بیرسٹر اعتزاز احسن، حامد خان، اور طارق محمود نے کی۔ جسٹس افتخار کے وکیل قاضی انور دل کا دورہ پڑنے کی وجہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک اور علی احمد کرد ذاتی وجوہات کی وہ پیش نہ ہوئے۔

حکومت کی طرف ایڈوکیٹ خالد رانجھا، ایڈوکیٹ راجہ عبد الرحمن، وسیم سجاد، اور امان اللہ کنرانی پیش ہوئے۔سندھ کے سابق ایڈوکیٹ جنرل راجہ قریشی پچھلی پیشی پرحکومت کی نمائندگی کی لیکن منگل کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھریجسٹس افتخار کیس
حکومت ریفرنس پر تذبذب کا شکار ہوگئی ہے
پہلا تحریری بیان
جسٹس افتخار جوڈیشل کونسل کے سامنے
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد