BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس، انتظامیہ کو توہین کے نوٹس

چیف جسٹس سے بدسلوکی
چیف جسٹس کو مبینہ طور زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی گئی تھی
سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس بھگوان داس، نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

جن اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں اسلام آباد پولیس کے آئی جی افتخار احمد، ایس ایس پی ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، متعلقہ تھانے کے انچارج رخسار مہدی اور انتظامی افسروں میں کمشنر خالد پرویز اور ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی شامل ہیں۔

توہین عدالت کے نوٹس کے تحت ان تمام اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں۔

عملی طور پر معطل کر دیے گئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے سماعت کے سلسلے میں تیرہ مارچ کو جب پہلی

پیشی چار اپریل کو
 توہین عدالت کے نوٹس کے تحت ان تمام اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں
دفعہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلے تھے تو انہیں مبینہ طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی عمارت تک پیدل جانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر پولیس کے کچھ اہلکاروں نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کے کوشش کی تھی۔

اس کھینچا تانی کی تصاویر اور خبریں کچھ اخبارات میں شائع ہوئیں تو سپریم کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس جاوید اقبال، نے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کو تحقیقات پر مامور کیا تھا۔

اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو توہین عدالت کے نوٹس جسٹس اعجاز افضل کی رپورٹ پر دیئے گئے ہیں۔

درخواستیں یکجا
 صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کو یکجا کر کے ان کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

دریں اثناء چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کو یکجا کر کے ان کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں کام کرنے والے بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے حوالے سے بیرسٹر ظفر اللہ خان کی پٹیشن کی پیر کو سماعت شروع کی تو اسی نوعیت کی ایک اور پٹیشن دائر کرنے والے قانون دان ڈاکٹر فاروق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پٹیشن کی سماعت بھی ایک ساتھ شروع کی جائے۔

جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے حوالے سے دائر کی گئی تمام درخواستوں کو اکٹھا کر کے ان کی ایک ہفتے کے اندر مشترکہ سماعت کی جائے گی۔

’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
اسی بارے میں
جسٹس افتخار جبری چھٹی پر
17 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد