BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 April, 2007, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افسروں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی

جسٹس افتخار چودھری
جسٹس افتخار کو سپریم کورٹ جاتے ہوئے مبینہ بد سلوکی کا نشانہ بنایا گیا تھا (فائل فوٹو)
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے مقدمہ میں اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس سمیت سات افسران پر فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔

عدالتِ اعظمیٰ نے ان افراد کو گیارہ اپریل تک اپنے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جن افراد پر فرد ِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی، آئی جی پولیس چودھری افتخار احمد، ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، ایس ایچ او رخسار مہدی اور اے ایس آئی سراج احمد شامل ہیں۔

’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفتیش کرنے والا سپریم کورٹ کا بیچ چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس ناصر الملک پر مشتمل ہے۔

 ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفتیش کرنے والا بیچ چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس ناصر الملک پر مشتمل ہے

سپریم کورٹ کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ عدالت نے متعلقہ افسران پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے تیرہ مارچ کو بعد دوپہر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے سنگین بدسلوکی کی اور اپنے اس فعل کے ذریعے عدالت کی اتھارٹی کی رسوائی کی اور تمسخر اڑایا، انتہائی توہین آمیز انداز سے انصاف کی فراہمی کے عمل میں سنگین مداخلت کی اور عدالت کی توہین کے مرتکب ہوئے جو کہ انیس سو چھہتر کے توہینِ عدالت کے قانون کی شق چار جو آئین پاکستان کی شق دو سو چار کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو قابل سزا ہے۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیوں نہ آپ کو اس جرم کے تحت سزا دی جائے‘۔

عدالت نے جب بدھ کو سماعت شروع کی تو متعلقہ افسران عدالت میں موجود رہے۔ ایک وکیل مجیب الرحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ وہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے وکیل ہیں جبکہ ان کے ساتھی وکیل قاضی محمد امین پولیس افسران کے وکیل ہیں۔

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے وکالت نامے جمع نہیں کروائے اور ان کی یہ عادت نہیں کہ غیر متعلقہ افراد کو سنیں۔

اس دوران آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نوٹس دو اپریل کو موصول ہوئے اور تین اپریل کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کی وجہ سے وہ دن بھر سکیورٹی انتظامات میں مصروف رہے۔

تیرہ مارچ کو جب ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کے سامنے پیشی کے لیے پیدل جانے پر اصرار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی اور اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا

اس پر بینچ کے رکن جسٹس تصدق حسین جیلانی نے آئی جی سے کہا کہ انہیں دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا اور وہ چاہیں تو اقرارِ جرم کے بعد غیر مشروط معافی کی درخواست دے دیں یا پھر مقدمہ لڑیں۔

واضح رہے کہ تیرہ مارچ کو جب ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے لیے اپنے گھر سے سپریم کورٹ تک پیدل جانے پر اصرار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی اور اسی دوران چیف جسٹس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز افضل خان کو انکوئری جج مقرر کیا تھا اور ان کی جانچ مکمل ہونے کے بعد توہین عدالت کے اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔

پاکستان میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سینیئر ترین افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

بدھ کو ہی سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے غیر مسلم کو چیف جسٹس کے عہدے کے لیے اہل نہ ہونے کے بارے میں آئینی درخواست کی سماعت کی اور مزید کارروائی دو ہفتے تک ملتوی کردی۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم اس بینچ نے سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل نے آئینی درخواست کی مخالفت کی اور جواب داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی۔ عدالت نے ان کی استدعا قبول کرتے ہوئے انہیں پندرہ روز کی مہلت دے دی ہے۔

 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس بھگوان داس چیف جسٹس پاکستان
غیر مسلم چیف جسٹس ہو سکتا ہے یا نہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد