BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم

ملک قیوم
جسٹس افتخار کی معطلی کے بعد جسٹس قیوم ان سے کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں
کراچی پریس کلب کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ سے خطاب کرتے ہوئے عملی طور معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس کی واپسی کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی یا غیر فعال بنائے جانے کے بعد صدر پرویز مشرف نے پاکپتن میں حکومتی پارٹی کے جلسے میں کہا تھا کہ ان کےخلاف سازش ہو رہی ہے۔

جیو ٹی وی کے ساتھ ایک ’فرینک انٹرویو‘ میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کے تو جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مثالی خاندانی مراسم تھے اور انہوں نے ریفرنس تو بس وفاقی حکومت کی سفارش پر دائر کیا تھا۔

حکومت کے کچھ بہی خواہ اب بھی جنرل مشرف کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اسے جسٹس افتخار محمد چودھری سے بہتر کوئی چیف جسٹس مل ہی نہیں سکتا اور انہیں غیر فعال چیف جسٹس سے فعال چیف جسٹس بنا دیا جائے۔

اچھا چیف جسٹس
 اگر صدر اور جسٹس افتخار میں مفاہمت نہیں ہوتی تو جنرل مشرف کو اچھا چیف جسٹس حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو سروں کو پھلانگنا ہو گا
ملک قیوم

سپریم کورٹ کی طرف سے ’متعصب جج‘ کا خطاب پانے والے جسٹس (ریٹائرڈ) ملک قیوم کا بھی خیال ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو موجودہ حالات میں افتخار محمد چودھری سے بہتر چیف جسٹس مہیا ہو ہی نہیں سکتا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ’غیر فعال‘ کیے جانے کے بعد ملک قیوم ان سے کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں اور دو اپریل کو دونوں میں ایک طویل ملاقات ہوئی جس کے بعد انہوں نےصحافیوں کو بتایا کہ وہ جسٹس افتخار کے ساتھ لذیذ کھانا کھا کر واپس لوٹے ہیں۔

ملک قیوم کے خیال میں جسٹس افتخار جنرل مشرف کے لیے بہترین چیف جسٹس تھے اور ان کی ’آزادی کی انتہا‘ جنرل مشرف تک نہیں پہنچتی تھی۔

ان تمام مقدموں میں جن میں جنرل مشرف کی ’قانونی حثیت‘ پر کوئی اثر پڑتا ہو ان کے معاملے میں جسٹس افتخار نے ’غیر ذمہ داری‘ کا کبھی مظاہرہ نہیں کیا تھا اور بقول ملک قیوم سپریم کورٹ کی آزادی وزیر اعظم شوکت عزیز تک جا کر ختم ہو جاتی تھی۔

ملک قیوم کے خیال میں جسٹس افتخار جنرل مشرف کے لیے بہترین چیف جسٹس تھے

ملک قیوم بتاتے ہیں کہ انہوں نے جسٹس افتخار کو ایک جج کے، جو اب سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں، خلاف کیس سپریم جوڈیشل کونسل بھیجنے کی مخالفت کی تھی، لیکن وہ نہ مانے اور شاید یہ ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

نو مارچ کو جب چیف جسٹس کو ’غیر فعال‘ بنائے جانے کا عمل آخری مرحلے میں تھا تو ملک قیوم جلدی میں لاہور سے اسلام آباد آئے تھے تاکہ وہ جسٹس افتخار کو بتا سکیں کہ حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں، لیکن جب وہ اسلام آباد پہنچے تو ان کو پتہ چلا کہ جسٹس افتخار صدر مشرف سے ملاقات کے لیے راولپنڈی جا چکے ہیں۔

ملک قیوم کہتے ہیں کہ انہوں نے چیف جسٹس سے ملنے کے لیے موٹر وے پر تیز رفتاری کی اور نتیجتاً پولیس کو بائیس سو روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سٹاف نے ملک قیوم کو بتایا کہ صاحب انتظار کرنے کا کہہ کر گئے ہیں۔ لیکن ملک قیوم کا انتظار حراست میں بدل گیا، کیونکہ پولیس نے انہیں شام پانچ بجے تک سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر ہی نہیں جانے دیا۔

کوئی ضمانت نہیں
 جسٹس افتخار کی سپریم جوڈیشل کونسل سے بحالی ان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے کی ضمانت نہیں ہو گی
ملک قیوم

ملک قیوم بتاتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں پر حبس بے جا کی پیٹشن دائر کرنے کی دھمکی نے بھی کام نہ کیا اور انہیں اس وقت تک سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر جانے نہ دیا گیا جب تک جسٹس افتخار کو صدر کے کیمپ آفس سے اپنے گھر واپس نہ پہنچا دیا گیا۔

ملک قیوم کے خیال میں جسٹس افتخار کی سپریم جوڈیشل کونسل سے بحالی ان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے کی ضمانت نہیں ہو گی۔ ’سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بھی بحال کیا تھا، لیکن صرف اڑتیس روز بعد نواز شریف وزیر اعظم نہیں رہے تھے۔‘

ملک قیوم کے خیال میں اگر صدر اور جسٹس افتخار میں مفاہمت نہیں ہوتی تو جنرل مشرف کو ’اچھا‘ چیف جسٹس حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو سروں کو پھلانگنا ہو گا۔

’ریفرنس واپس ہوگا‘
غلطی ماننا بھی انصاف کا تقاضا ہے: منیر ملک
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
حکومت نے صدر سے کیا کہا
19 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد