BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 April, 2007, 05:55 GMT 10:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی

سکیورٹی کے لیے لگ بھگ تین ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں
اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی ہوگئی ہے۔

دوسری طرف غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق اس آئینی درخواست میں وفاق کے ساتھ ساتھ صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

بدھ کے روز سپریم جوڈیشل کونسل میں غیر فعال چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران صفائی کے وکلاء نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر ملک میں وکلاء نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو سماعت کے دوران اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے اگر مناسب سمجھیں تو کارروائی کو آگے نہ چلائیں۔

مسٹر منیر اے ملک کے مطابق اس پر کونسل نے ارکان نے کہا کہ جب غیر فعال چیف جسٹس کی پٹیشن پر عدالتی حکم آئے گا تو دیکھیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ غیر فعال چیف جسٹس کے وکیل چودھری اعتزاز احسن نے بدھ کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک درخواست پیش کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف کے کونسل کے تین ارکان کے متعصب ہونے کے بارے میں اعتراضات پر کونسل پہلے فیصلے دے۔ حکومتی وکلاء نے اس درخواست کی مخالفت کی۔

مسٹر منیر اے ملک کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے چودھری اعتزاز احسن کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ کونسل غیر فعال چیف جسٹس کی جانب سے پیش کیے گئے تمام اعتراضات پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ان پر اکٹھا فیصلہ دے گی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کے مطابق ایک موقع پر سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن جسٹس جاوید اقبال نے وکلاء صفائی سے کہا کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کونسل کی کارروائی کو آگے چلنے دیں۔ مسٹر منیر اے ملک کے مطابق اس پر چودھری اعتزاز احسن نے نے کہا کہ انہیں اللہ پر تو بھروسہ ہے ان پر نہیں۔

صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے سامنے جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کے حامیوں اور مخالفین میں ہنگامہ ہوا ہے وہاں ایک جج کی گاڑی کو بھی روکا گیا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کا ایک بڑا پوسٹر اٹھائے جب حکمران مسلم لیگ (ق) کے کارکن عدالت کے سامنے پہنچے تو ڈنڈا بردار خواتین نے جہاں صدر کا پوسٹر پھاڑا اور اس پر جوتیاں برسائیں وہاں سرکاری جماعت کے کارکنوں کی مار پیٹ بھی کی۔

ایک جج کی گاڑی کو سیاسی کارکنوں نے روکا تو پولیس اور کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی اور بعد میں وکلاء کی مداخلت پر معاملہ ختم گیا۔

اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات سخت ہیں اور حکام کے مطابق اسلام آباد، پنجاب پولیس اور رینجرز کے تین ہزار اہلکار تعینات ہیں لیکن عدالت کے سامنے جانے سے کسی کو روکا نہیں گیا۔

عدالت کے سامنے بڑی تعداد میں بدستور وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکن موجود تھے۔

وکلاء اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد