کونسل کی تشکیل: سماعت ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف پٹیشنوں کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس چودھری اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک تین رکنی بینچ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف ایک ہی نوعیت کی پانچ آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ پیر کو جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وفاق کی طرف سے پیش ہونے والے جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالقیوم نے استدعا کی کہ انہیں عدالت کی طرف سے وفاق کو جاری کیا جانے والا نوٹس دو روز پہلے ہی موصول ہوا ہے اور انہیں اس کا جواب تیار کرنے کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا وقت چاہیے۔ عدالت نے ان کی اس استدعا پر سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی کر دی۔ دوسری طرف سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں کی تعداد اب پانچ ہو گئی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا تین رکنی بینچ ایک ساتھ ان کی سماعت کرے گا۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ وطن پارٹی اور ممتاز قانون دان ڈاکٹر فاروق حسن کی آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف جو تین نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان میں سے ایک کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل اور عبدالمجیب سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دائر ہونے والی پیٹیشن میں ممتاز قانون داں ایڈوکیٹ ڈاکٹر فاروق حسن نےنکتہ اٹھایا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کوئی ریفرنس دائر ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر فاروق حسن کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 209 میں جس کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کی جاتی ہے، واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں اور ہائی کورٹوں کے دو سینئر چیف ججوں پر مشتمل ہو گی۔ سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس طرح صدر کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی مقدمات سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں جسٹس انکوائری: ’یہ ہاتھ کس کا ہے؟‘27 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس توہین، فرد جرم عائد 11 April, 2007 | پاکستان صدارتی ریفرنس کی سماعت 18 کو13 April, 2007 | پاکستان ’یہ شک و شبہے کا وقت ہے‘12 March, 2007 | پاکستان ’اختیارات کی تقسیم ضروری ہے‘15 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||