BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 April, 2007, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی ریفرنس کی سماعت 18 کو

گزشتہ تاریخوں پر بھی وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے سامنے زبردست احتجاج کیا تھا
سپریم جوڈیشل کونسل نے پاکستان کے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت بدھ اٹھارہ اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

جمعہ کو سماعت شروع ہوئی تو معطل چیف جسٹس کے چھ وکلا پر مشتمل پینل کے سربراہ اعتزاز احسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ججوں پر مبینہ طور پر متعصب ہونے کے بارے میں اپنے اعتراضات کے متعلق دلائل مکمل کیے۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلا کے پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ اعتزاز احسن آئندہ پیشی پر سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات کے بارے میں اپنے دلائل دیں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ معطل چیف جسٹس کے وکلانے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین اراکین میں سے دو سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے بارے میں اعتراضات کیے ہیں کہ وہ متعصب ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول ان ججوں کا یا تو اس مقدمے سے ذاتی مفاد وابسطہ ہے یا پھر وہ پر معطل چیف جسٹس سے ذاتی عناد رکھتے ہیں۔

سخت سکیورٹی: فائل فوٹو
اسلام آباد میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے

طارق محمود نے بتایا کہ سماعت کھلی عدالت میں کرنے کے بارے میں تاحال فیصلہ محفوظ ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل کا خیال ہے کہ وہ تمام اعتراضات سننے کے بعد اکٹھا فیصلہ سنائیں گے۔

جمعہ کو سماعت تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ معطل چیف جسٹس کی گاڑی کو وکلا نے گھیر رکھا تھا اور وہ وقتِ مقرر پر عدالت پہنچنے کے باوجود بھی کمرہ سماعت میں تقریباً نصف گھنٹہ دیر سے پہنچے۔

حکومت کی جانب سے خالد رانجھا اور وسیم سجاد پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان عدالتی نوٹس پر موجود رہے۔

واضح رہے کہ معطل چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے پینل میں اعتزاز احسن، حامد خان، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، منیر اے ملک، علی احمد کرد اور قاضی محمد انور شامل ہیں۔

جمعہ کو سماعت کے موقع پر سخت دھوپ کے باوجود بھی جہاں وکلاء کی تعداد پہلے سے زیادہ نظر آئی وہاں سیاسی جماعتوں کے احتجاجی جلوسوں کی شرکاء کی تعداد بھی تاحال ہونے والے مظاہروں سے زائد نظر آئی۔

سکیورٹی انتظامات میں بھی پہلے کی نسبت جمعہ کو خاصی نرمی دیکھنے میں آئی۔

سپریم جوڈیشل کونسل قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال جسٹس عبد الحمید ڈوگر، جسٹس چودھری افتخار حسین (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس صبیح الدین (چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ) پر مشتمل ہے۔

تیرہ اور اکیس مارچ کو کونسل کی سماعت کے دوران سربراہی جسٹس جاوید اقبال نے کی جبکہ تین اور تیرہ اپریل کو کونسل کی سماعت کے دوران سربراہی قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے کی۔

تاحال کونسل کی چار سماعتیں ہوچکی ہیں اور وکلا کا کہنا ہے کہ اس ریفرنس کی سماعت طویل بھی ہوسکتی ہے۔

گزشتہ سماعتوں کی طرح اس مرتبہ بھی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ جمعرات کی رات کو ہی دارالحکومت میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کر دیا گیا اور جمعہ کو شاہراہ دستور کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد