وسیم سجاد بار روم چھوڑنے پر مجبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمد چوہدری کےخلاف صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے والے حکومتی وکیل وسیم سجاد کو سندھ ہائی کورٹ کے بار روم سے نکال دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز ایڈوکیٹ وسیم سجاد سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان سٹیٹ آئل کی نج کاری سے متعلق مقدمے کی پیشی کے بعد جب ہائی کورٹ کے بار روم میں بیٹھے تھے تو کچھ وکلاء نے ان کی وہاں موجودگی پر اعتراض کیا۔ سندھ کے ایک وکیل صلاح الدین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے وسیم سجاد کو کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف حکومت وکیل بن کر انہوں نے وکلاء کی جدوجہد کی خلاف ورزی کی ہے اور اب وہ وکلاء کی بار میں بیٹھنے کا حق کھو چکے ہیں۔ وسیم سجاد نے اس واقعے پر موقف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ وکلاء نے انہیں چائے کی دعوت دی تھی اور جب وہ چائے پی رہے تھے تو ایک صاحب نے انہیں کہا کہ وہ بار روم سے چلے جائیں۔ وسیم سجاد نے کہا کہ جب انہیں کہا گیا کہ آپ وہ بار روم سے چلے جائیں تو وہ وہاں سے چلے آئے۔’میں نہیں جانتا کہ وہ صاحب ہائی کورٹ کا وکیل بھی ہیں یا نہیں۔‘ وسیم سجاد نے کہا کہ عموماً وکلاء ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتے تھے کیونکہ ہر مقدمےمیں دو فریق ہوتے ہیں اور دونوں کی پیروی وکیل ہی کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں کونسل کی تشکیل : سماعت ملتوی02 April, 2007 | پاکستان بھگوان داس تعیناتی: وفاق کو نوٹس02 April, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل: تشکیل کو چیلنج‘30 March, 2007 | پاکستان بدسلوکی کی انکوائری رپورٹ پیش29 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||