BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزاد عدلیہ نہیں، آزاد جج چاہئیں‘

اعتراز احسن
اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ وکلاء برادری نے پاکستان اور عدلیہ کی لاج رکھ لی ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اور معروف قانون دان اعتراز احسن نے کہا ہے کہ وکلاء کو آزاد عدلیہ نہیں بلکہ آزاد جج چاہئیں اور وکلاء کو عدلیہ سے کوئی امید نہیں کیونکہ یہ تو خود زیر ہونے کو تیار ہے۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے قانون دان اعتزاز احسن نے کہا کہ مولوی تمیزالدین کیس سے ظفر علی شاہ کیس تک کی تاریخ گواہ ہے کہ عدلیہ نے ہمیشہ آمروں کو جواز فراہم کیا اور قائداعظم کا پاکستان ایک فلاحی ریاست بننے کی بجائے قومی سلامتی کی ریاست بن گیا۔

انہوں نے وکلاء تحریک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے پاکستان اور عدلیہ کی لاج رکھ لی ہے اور ان کی تحریک نے قوم میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک ادارہ کے سربراہ کو قانونی اور آئینی طریقے سے ہٹایا تو ان کو اہل خانہ سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ چیف جسٹس کو غیر آئینی طریقے سے ہٹا کر حراست میں رکھا گیا تو ساتھی ججوں کو خیال نہیں آیا جو اپنی گاڑیوں میں جسٹس افتخار سے ملنے گئے تاہم اجازت نہ ملنے پر ملاقات کیے بغیر ہی لوٹ آئے۔

تاہم افتخار محمد چودھری کے معطل کیے جانے پر لاہور ہائی کورٹ سے مستعفی ہونے والے جج جسٹس جواد ایس خواجہ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کو ان جیسے ججوں کی ضرورت ہے۔

News image
 چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی بند کمرے میں سماعت ہمیں منظور نہیں ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ کارروائی شبہات اور خدشات کو جنم دے گی
اعتزاز احسن

اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں کو چاہیے تھا کہ وہ ایک دن کے لیے احتجاجا کام چھوڑ دیتے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقیت یہ ہے کہ وکلاء عدلیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری سے حکمرانوں کو شکایات اور وسوسے تھے جس کی بنا پر ان کو منصب سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اسٹیل ملز کیس کی نجکاری پر فیصلہ وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف فرد جرم ہے جس میں ایک سو پچاس ارب روپے مالیت کی ملز بائیس ارب روپے میں فروخت کی جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاپتہ افراد کا مسئلہ، پارکوں کو کمرشل پلازوں میں تبدیل کرنے، گوادر پلاٹس ہوں یا نیو مری پراجیکٹ کے معاملہ پر چیف جسٹس کی کارروائی کی وجہ سے افتخار محمد چودھری حکومت کی آنکھ میں کانٹوں کی طرح کھٹکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پارلیمینٹ اور سول بیوروکریسی کے بعد عدلیہ کو زیر کرنے کی کوششیں کیں لیکن جسٹس افتخار ان کے سامنے ڈٹ گئے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس کی بند کمرے میں سماعت انہیں منظور نہیں ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ کارروائی شبہات اور خدشات کو جنم دے گی۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس شیخ شوکت (ریٹائرڈ) کے خلاف ریفرنس پر سماعت ان کی خواہش پر بند کمرے میں کی گئی تھی اور یہ سماعت سپریم کورٹ نے کی تھی کیونکہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کا وجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ شوکت کے ریفرنس میں سپریم کورٹ کا جج کے خلاف کوئی ذاتی تعصب نہیں تھا جبکہ موجودہ صورتحال مختلف ہے اور کہ انہیں موجودہ شکل میں توقع نہیں ہے کہ چیف جسٹس سے انصاف کیا جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی سماعت بند کمرے میں نہ کی جائے اور ان کی خواہش بھی اسی طرح پوری کی جائے جیسا کہ شیخ شوکت کے سلسلہ میں ہوا تھا۔

’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
احساس تحفظ ضروری ہے: افتخار
11 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد