عدلیہ کو آزادی دی جائے: جسٹس افتخار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر سارے اختیارات ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اختیارات کا ناجائز استعمال بڑھ جاتا ہے۔ سنیچر کو سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ کو آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت کام کرنے دیا جائے۔ نو مارچ کو ’غیر فعال‘ بنائے جانے کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ پہلا دورہ سندھ تھا اور کسی بار ایسوسی ایشن سے دوسرا خطاب تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا تھا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری سکھر میں وکلاء اور عام لوگوں کی طرف سے دیئے گئے استقبال سے بڑے خوش نظر آئے اور انہوں نے خود ہی اپنے استقبال کو والہانہ قرار دیا۔
جسٹس افتخار نےاختیارات کی یکساں تقسیم اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق لکھی ہوئی تقریر پڑی۔جسٹس افتخار نے کئی مرتبہ لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر تقریر کرنی چاہی لیکن خود ہی سنبھلتے رہے۔ انہوں نے کہا عدلیہ کو آئین اور قانون میں دیئے اختیارات کے تحت کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سیاسی مقصد نہیں ہے لیکن وہ یہ بات پندرہ کروڑ عوام کو فلاح کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام جو ٹیکس دیتے ہیں ان کا یہ حق بنتا ہے کہ ان کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری جب سکھر ایئر پورٹ پر پہنچے تو سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وکلاء کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس موقع پروکلاء ’گو مشرف گو، کالی کوٹ کالی ٹائی مشرف تیری شامت آئی‘ اور ’افتخار ہمارا ہیرو ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری
افتخار محمد چوہدری کی بار بار وضاحتوں کے باوجود کئی لوگوں کو ان کی یہ تقریر سیاسی رنگ والی تقریر لگی۔ جسٹس افتخار الگے دو دنوں تک سندھ میں رہیں گے اور کراچی اور حیدرآباد بار سے خطاب کریں گے۔ استقبال کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے خورشید شاہ اور سندھ عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو بھی شامل تھے۔ ایئر پورٹ پر سکھر ہائیکورٹ کے جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس ندیم اظہر اور سیشن جج فیض رسول راشدی نے معطل چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکھر ہائیکورٹ کی جانب سے سالانہ ڈنر کی دعوت بیس فروری کو دی گئی تھی۔ مارچ میں ان کی معطلی اور جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس کو سکھر بائیکورٹ بار کی طرف سے دوبارہ مدعو کیاگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||