BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 April, 2007, 21:07 GMT 02:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ کو آزادی دی جائے: جسٹس افتخار

سکھر میں جسٹس چوہدری کا خطاب غیرسیاسی ہونے کی توقع ہے
پاکستان کے’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر سارے اختیارات ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اختیارات کا ناجائز استعمال بڑھ جاتا ہے۔

سنیچر کو سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ کو آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت کام کرنے دیا جائے۔

نو مارچ کو ’غیر فعال‘ بنائے جانے کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ پہلا دورہ سندھ تھا اور کسی بار ایسوسی ایشن سے دوسرا خطاب تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا تھا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری سکھر میں وکلاء اور عام لوگوں کی طرف سے دیئے گئے استقبال سے بڑے خوش نظر آئے اور انہوں نے خود ہی اپنے استقبال کو والہانہ قرار دیا۔

کوئی سیاسی مقصد نہیں
 میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے لیکن عوام کو بنیادی حقوق دیئے جائیں۔
جسٹس افتخار محد چوہدری

جسٹس افتخار نےاختیارات کی یکساں تقسیم اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق لکھی ہوئی تقریر پڑی۔جسٹس افتخار نے کئی مرتبہ لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر تقریر کرنی چاہی لیکن خود ہی سنبھلتے رہے۔

انہوں نے کہا عدلیہ کو آئین اور قانون میں دیئے اختیارات کے تحت کام کرنے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کو سیاسی مقصد نہیں ہے لیکن وہ یہ بات پندرہ کروڑ عوام کو فلاح کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام جو ٹیکس دیتے ہیں ان کا یہ حق بنتا ہے کہ ان کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری جب سکھر ایئر پورٹ پر پہنچے تو سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے وکلاء کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

اس موقع پروکلاء ’گو مشرف گو، کالی کوٹ کالی ٹائی مشرف تیری شامت آئی‘ اور ’افتخار ہمارا ہیرو ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری

’گو مشرف گو‘
جسٹس افتخار کی سکھر آمد پر وکلاء ’گو مشرف گو، کالی کوٹ کالی ٹائی مشرف تیری شامت آئی‘ اور ’افتخار ہمارا ہیرو ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔
سکھر میں وکلاء کے نعرے
نے کہا کہ ان کے چیف جسٹس بننے کے بعد سپریم کورٹ میں اٹھائیس ہزار مقدموں سے کم ہو کر دس ہزار رہ گئے ہیں۔

افتخار محمد چوہدری کی بار بار وضاحتوں کے باوجود کئی لوگوں کو ان کی یہ تقریر سیاسی رنگ والی تقریر لگی۔

جسٹس افتخار الگے دو دنوں تک سندھ میں رہیں گے اور کراچی اور حیدرآباد بار سے خطاب کریں گے۔

استقبال کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے خورشید شاہ اور سندھ عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو بھی شامل تھے۔

ایئر پورٹ پر سکھر ہائیکورٹ کے جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس ندیم اظہر اور سیشن جج فیض رسول راشدی نے معطل چیف جسٹس سے ملاقات کی۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکھر ہائیکورٹ کی جانب سے سالانہ ڈنر کی دعوت بیس فروری کو دی گئی تھی۔ مارچ میں ان کی معطلی اور جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس کو سکھر بائیکورٹ بار کی طرف سے دوبارہ مدعو کیاگیا۔

مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
جسٹس افتخار محمد چودھری’ظلم نہیں چل سکتا‘
’قومیں کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں، ظلم پر نہیں‘
احتجاجی مظاہرےمعطلی کیس
وکلاء برادری کے احتجاج کی تصویری جھلکیاں
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
وکلاء کا احتجاجوکلاء کے مظاہرے
کراچی اور بلوچستان میں وکلاء کا احتجاج
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد