BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی

وکلاء
وکلاء ہاتھوں میں قومی پرچم اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر کے علاوہ بینرز اٹھائے ہوئے تھے
جمعہ کے روز کراچی میں وکلاء نے سٹی کورٹس سے ایم اے جناح روڈ تک احتجاجی جلوس نکالا اور مزار قائد کے سامنے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔

وکلاء ہاتھوں میں قومی پرچم اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر کے علاوہ بینرز اٹھائے ہوئے تھے اور صدر جنرل پرویز مشرف اور فوجی حکمرانی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور غیرفعال چیف جسٹس سپریم کورٹ کی باعزت بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پولیس نے جلوس کی گزرگاہوں کو ٹریفک کے لئے پہلے سے بند کر رکھا تھا۔

کراچی سے نامہ نگار احمد رضا شیخ کے مطابق جلوس جب بندر روڈ سے گزر رہا تھا تو کوریج میں مصروف ایک صحافی کی موٹر سائیکل گرنے کے بعد بعض وکلاء اور صحافیوں میں تلخ کلامی ہوگئی جو بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ اس دوران وکلاء نے صحافیوں اور کیمرہ مینوں کو لاٹھیوں سے زدوکوب کیا جس سے کیمرہ مین امر سنگھ، محمد خان اور صحافی طارق معین معمولی زخمی ہوگئے جبکہ ان کی کیمرے بھی ٹوٹ گئے۔

واقعے کے بعد مشتعل صحافیوں نے وکلاء کے خلاف نعرے لگائے اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا۔ انہوں نے وکلاء کے احتجاج کی کوریج کا بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹس کے جوائنٹ سیکرٹری ارباب چانڈیو نے واقعے کی مذمت کی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ٹی وی چینل کے صحافی شاکر سولنگی پر بھی جمعہ کو حملہ کر کے زدوکوب کیا گیا ہے۔

جلوس میں شریک ایک وکیل برکی نے الزام عائد کیا کہ صحافیوں کے بھیس میں حکومت کے بعض ایجنٹوں نے موٹر سائیکل گرنے پر ایک وکیل کو گالیاں دیں جس پر جھگڑا شروع ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ وکلاء کی پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کے سازش ہے۔

اس موقع پر موجود ایک صحافی نے تبصرہ کیا کہ صحافیوں اور وکلاء کو طے شدہ منصوبے کے تحت لڑایا گیا ہے۔

دریں اثناء احتجاج میں شریک وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی، امین لاکھانی، اختر حسین اور دیگر نے کہا کہ جب تک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو باعزت طور پر ان کے عہدے پر بحال نہیں کیا جاتا اور فوج حکومت سے کنارہ کشی نہیں کرتی وہ اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف لال مسجد اور مدرسہ حفصہ کے ملاؤں کو جو فوج کی بی ٹیم ہیں استعمال کر کے وکلاء کی احتجاجی تحریک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں لیکن وکلاء اس سازش کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

عمران خان کی تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھی پریس کلب سے ہائی کورٹ تک پیدل مارچ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ جلوس میں شریک دو افراد لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے ان میں ایک شخص فوجی وردی میں ملبوس جنرل پرویز مشرف کی شکل کا ماسک پہنے ہوئے تھا اور فوجی اسٹک لہرارہا تھا۔ اس نے ایک دوسرے شخص کو جس کے چہرے پر غیرفعال چیف جسٹس افتخار چوہدری کی صورت کا ماسک تھا بالوں سے پکڑا ہوا تھا اور اسے آگے دھکیل رہا تھا۔

ایک شخص جنرل پرویز مشرف کی شکل کا ماسک اور فوجی اسٹک لہرا رہا تھا اور دوسرے شخص نے چہرے پر غیرفعال چیف جسٹس افتخار چوہدری کی صورت کا ماسک پہنا تھا

دریں اثناء اتحاد بحالی جمہوریت کی جانب سے آج سہ پہر فریسکو چوک برنس روڈ سے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت تک وکلاء سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک ریلی نکالی جائیگی جس کی قیادت اتحاد کے رہنما کریں گے۔

بلوچستان میں بھی وکلا نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف عدالتوں کا بائکاٹ کیا ہے اور کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ صوبے کے تمام شہروں میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ کوئٹہ میں وکلاء کی علامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ وکلاء نے ضلع کچہری سے جلوس نکالا جو شارع اقبال سے ہوتا ہوا میزان چوک پر پہنچا اور پھر واپس منان چوک پر آکر دھرنا دیا ہے۔ جلوس میں شامل وکیل حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے رہے جن میں ’گو مشرف گو‘ اور ’مشرف تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے‘ جیسے نعرے شامل تھے۔

ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء کا احتجاج چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی تک جاری رہے گا اور اس دوران وکلاء پر مختلف طریقوں سے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے تاکہ وکلاء کے اتحاد کو توڑا جا سکے لیکن اس کوشش میں حکومت کامیاب نہیں ہوگی۔

آج نماز جمعہ کے بعد متحدہ مجلس عمل کے زیر انتطام بھی اسی حوالے سے ریلی نکالی جائے گی۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق وکیلوں نے ایوان عدل سے چیئیرنگ کراس تک احتجاجی جلوس نکالا اور صدر مشرف کا ایک ایسا پتلا جلایا جسے فوجی وردی پہنائی گئی تھی۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’گو مشرف گو‘، ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ اور ’عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘۔ چیئرنگ کراس پر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیا جس کے بعد وکیل پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

وکیلوں کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی جلوس میں شمولیت اختیار کی البتہ سیاسی جماعتوں کی شرکت علامتی تھی اور قیادت وکیلوں کے ہاتھ میں رہی۔

تحریک انصاف کے کارکن اپنی پارٹی کے جھنڈوں کے ساتھ شامل ہونے لگے تو وکیلوں نے پارٹی جھنڈے اتروا دیئے۔ جلوس کے راستے میں صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں ایک بینر لگا تھا جسے وکیلوں نے اتار کر پھاڑ دیا۔ راستے میں وکیلوں نے تھوڑی دیر کے لیے دھرنا بھی دیا اور جلوس کے شرکاء پر گل پاشی بھی کی گئی۔ وکیلوں کی تعداد سابق مظاہرے کے مقابلے میں کچھ زیادہ تھی اور وکیلوں کا جوش خروش بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ نظر آیا۔

مظاہرے سے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس سے بار کے قائم مقام صدر فردوس بٹ، سینئر وکیل احسان وائیں، سیکرٹری سرفراز چیمہ، سابق وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل حافظ عبدالرحمان انصاری نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ وکیلوں کے حوصلے کم نہیں ہوئے اور فوجی آمریت کے خاتمے اور عدلیہ کی مکمل آزادی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں۔ ہائی کورٹ سمیت مختلف ماتحت عدالتوں میں ہڑتال ہوئی، وکیل پیش نہیں ہوئے اور عدالتی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گئے۔

اسی بارے میں
وکلاء کے خلاف تحقیقات
06 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد