طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر سیاسی جماعتوں اور وکلاء نے چیف جسٹس کے خلاف جاری صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اب تک کا طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ کیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکن اور وکلاء جمعہ کی صبح سے ہی عدالت کے باہر شاہراہ دستور پر پہنچنا شروع ہوگئے۔ اگرچہ پولیس اور رینجرز نے عدالت کو جانے والے تمام راستے باڑ لگا کر بند کر دئیے لیکن پھر بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو عدالت کے قریب جانے سے نہیں روکا گیا۔ اس وجہ سے عدالت کے سامنے اب تک کا سب سے بڑا سیاسی مجمہ لگا۔ ہر جماعت کا جتھا اپنے پرچموں سے مسلح میدان میں پہنچا، نعرہ بازی کی اور شاہراہ پر چکر لگاتے رہے۔ احتجاج میں اے آر ڈی، متحدہ مجلس عمل ، مسلم لیگ (ن) ، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی، پاکستان تحریک انقلاب اور خاکسار تحریک کے رہنماء اور کارکن حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ احتجاج میں پاکستان تحریک انقلاب جیسی نئی جماعتوں کے کارکن بھی پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملے۔ تقریباً ہر رنگ کا پرچم موجود تھا۔ پارٹی کارکن عدلیہ کے علاوہ اپنے رہنماؤں کے حق میں بھی نعرہ بازی کرتے رہے۔ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق کل راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں بھی ہوئیں تاہم سرکاری اہلکار اس سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے سپریم کورٹ کے سامنے ٹائر جلائے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے پتلے کو آگ لگائی۔ احتجاج کرنے والے عدالت عظمی کے سامنے ’ عدالت کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمن، امین فہیم، قاضی حسین احمد، عمران خان اور لیاقت بلوچ بھی احتجاج میں شامل رہے۔ سیاسی جماعتوں سے وابستہ خواتین کی ایک بڑی تعداد احتجاج کرنے والوں میں شامل تھی۔ خواتین وکلاء اس کے علاوہ تھیں جو اپنی موجودگی کا احساس نعرہ بازی سے دلاتی رہیں۔ تحریک انصاف کے ایک کارکن اشتیاق ملک نے قمیض اتار کر زنجیریں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ انہیں زنجیروں سے اپنے آپ کو پیٹ بھی رہے تھے۔ ایک اور شخص نے منہ پر پٹی باندھی ہوئی تھی جس پر ’عدلیہ خان‘ لکھا ہوا تھا۔ سکیورٹی کا انتظام عدالت کی حد تک ہی دکھائی دیتا تھا۔ عدالت کے صدر دروازے پر بھاری تعداد میں پولیس موجود تھی تاہم سامنے سڑک پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ پولیس نے جگہ جگہ جسم کی تلاشی لینے والی مشینیں لگائی ہوئی تھیں اور احتجاج کرنے والوں کو تلاشی کے بعد آگے جانے دے رہی تھی۔ اسی طرح اسلام آباد میں آنے والی ہر سڑک پر ناکے لگے ہوئے تھے۔ ملکی اور بین القوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں کوریج میں مصروف رہے۔ | اسی بارے میں جسٹس معطلی:ایک اور جج مستعفی10 April, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، وکلاء کے مظاہرے03 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کیس: آج سماعت بھی احتجاج بھی02 April, 2007 | پاکستان ملک بھر میں مظاہرے، لاٹھی چارج21 March, 2007 | پاکستان ’پولیس کا انتقام‘20 March, 2007 | پاکستان ’سماعت ملتوی نہیں کی جاسکتی‘20 March, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||