BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 18:30 GMT 23:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پولیس کا انتقام‘

لاہور ہائی کورٹ کے احاطے کے اندر پولیس کی بکتر بندگاڑی
لاہور ہائی کورٹ کے احاطے کے اندر پولیس کی بکتر بندگاڑی
پاکستان میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی اور ان کے خلاف صدارتی ریفرنس پر جو بحران پیدا ہوا ہے اس میں پولیس اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی خاص اہمیت ہے۔

گزشتہ چند مہینوں سے سپریم کورٹ اور بعد میں اس کی تقلید میں لاہور ہائی کورٹ نے پولیس پر سخت تنقیدی ریمارکس دیے اور متعدد بار پولیس والوں کی سرزنش کی۔ میڈیا نے عدلیہ کی پولیس پر تبصروں کو خاصی نمایاں کوریج دی۔

ایک مقدمہ میں پنجاب کے ایک آئی جی ضیاءالحسن کو جب چیف جسٹس افتخار چودھری نے طلب کیا تو ان کی چیف جسٹس سے ناشائستہ الفاظ میں بات کی تھی۔گزشتہ ماہ پنجاب کے موجودہ آئی جی پولیس احمد نسیم کو عدالت عالیہ لاہور میں مؤدب ہو کر کھڑا ہونا پڑا اور ججوں کی پولیس پر کڑی تنقید سننا پڑی۔

پولیس کا حکم نہ ماننے کا نتیجہ
ایک روز پہلے جیو کے واقعے کے باوجود پولیس نے لاہور میں صحافیوں کو اس لیے مارا پیٹا کہ وہ اس کے آنسو گیس پھینکنے کی تصاویر نہ اتاریں جبکہ وہ پولیس کا حکم ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔

ایک موقع پر لاہور ہائی کورٹ نے تڑی لگائی تھی کہ وہ پولیس کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس کو آئے روز جس بے عزتی کا سامنا تھا اس نے اس کا بدلہ لینے کے لیے چیف جسٹس کے معاملہ پر احتجاج کے موقع کو استعمال کیا۔

چھوٹے موٹے لوگ تو دور کی بات ہے پولیس اہلکاروں نے خود ملک کے چیف جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ ان کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پہلی سماعت کے موقع پر جو ہاتھا پائی اور بدتمیزی کی۔ بالآخر قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا۔

بارہ مارچ کو لاہور میں وکلاء نے پہلی بار چیف جسٹس کے حق میں احتجاج کیا تو پولیس نے بے رحمی سے ان پر لاٹھی چارج کیا اور بزرگ وکلاء کے سر پھاڑ دیے۔ بعد میں لاہور پولیس کے سربراہ آفتاب چیمہ نے بہانہ بنایا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس لاٹھیاں نہیں ہلکے ڈنڈے یا چھڑیاں تھیں۔

پولیس نے بے رحمی سے وکلاء پر لاٹھی چارج کیا

گزشتہ جمعہ (سولہ مارچ) کو نیلا گنبد لاہور پر سیاسی جماعتوں نے چھوٹا سا جلوس نکالا جہاں پچاس سے سو سیاسی کارکن دس پندرہ منٹ تک حکومت کے خلاف پر امن طور پر نعرے بازی کرتے رہے اور پولیس دیکھتی رہی۔

تاہم مظاہرین کی طرف سے کسی اشتعال کے بغیر ہی پولیس نعرے بازی کرنے والے ہجوم کی طرف ڈنڈے لے کر دوڑی جس سے ہجوم ڈر کر بھاگا اور اس نے اپنے دفاع کے لیے پولیس پر پتھر پھینکنا شروع کردیے۔ پولیس نے جواب میں مظاہرین کو ڈنڈوں سے مارا اور ان پر آنسو گیس پھینکی۔

اس موقع پر لاہور پولیس کے ایس ایس پی (آپریشنز) آفتاب چیمہ خود سینہ بند جیکٹ، سر پر ہیلمٹ پہن کر اور ہاتھ میں ڈنڈا لیے پولیس کی ٹولیوں کی قیادت کررہے تھے۔

اسی روز اسلام آباد میں پولیس جیو ٹی وی کے دفتر میں گھس گئی اور دفتر کے اندر آنسو گیس پھینکتی رہی جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی تھی۔

اسلام آباد کے واقعہ کی حکومت سے معذرت کے بعد یہ گمان تھا کہ اگلے روز (سترہ مارچ) کو لاہور میں وکلا کے احتجاج کے موقع پر پولیس احتیاط کا مظاہرہ کرے گی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ ہائی کورٹ کے احاطے کے اندر بکتر بند گاڑی داخل کردی۔

تین گھنٹے لاہور ہائی کورٹ کی عمارت میں اور ارد گرد وکلاء پر آنسو گیس کی شیلنگ کرتی رہی جس کے گولے ججوں کے کمروں کے قریب گرتے رہے۔یہ ملک میں عدلیہ کی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے۔

ایک روز پہلے جیو کے واقعے کے باوجود پولیس نے لاہور میں صحافیوں کو اس لیے مارا پیٹا کہ وہ اس کے آنسو گیس پھینکنے کی تصاویر نہ اتاریں جبکہ وہ پولیس کا حکم ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔

لاہور میں پولیس نے جس طرح فٹ پاتھ سے اینٹیں اکھاڑ کر وکلاء پر پتھراؤ کیا اور وکیلوں کے دفاتر میں گھس کر ان کو توڑا پھوڑا اس سے پولیس کا جارحانہ طرز عمل صاف واضح تھا اور لگتا تھا کہ اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طاقت کا بھرپور استعمال کریں۔

پولیس کا جارحانہ طرز عمل صاف واضح تھا

اس موقع پر انسپکٹر جنرل پنجاب احمد نسیم اور لاہور کے پولیس سربراہ ملک اقبال خود لاہور ہائی کورٹ کے باہر تعینات پولیس کا معائنہ کرکے گئے تھے۔ پولیس کی یہ پر تشدد کاروائی ان کی حوصلہ افزائی اور احکامات کے بغیر ممکن نہیں۔

ملک اقبال وہی پولیس افسر ہیں جنہوں نے 2003 میں سیالکوٹ جیل میں ججوں کی یرغمالی کے بعد ان ججوں کو بات چیت کے ذریعے یا اسے طول دے کر معاملہ حل کرنے کی بجائے جلد میں کمانڈو کارروائی کا حکم جاری کیا تھا جس میں چار جج ہلاک ہوگئے تھے لیکن حکومت نے انہیں مسلسل اعلی عہدوں پر فائز کیے رکھا اور سارے معاملہ کی تفتیش ایسے کی گئی کہ وہ اس مقدمہ میں عدالت سے باعزت رہا کر دیے گئے۔

لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی یہ جارحانہ کاروائی صرف اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب اسلام آباد سے قائم مقام چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب سلمان صدیق کے ذریعے پولیس کو ہائی کورٹ کا محاصرہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

گزشتہ دنوں پولیس کے طرز عمل سے واضح ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بعد پولیس اسٹیبلشمنٹ پاکستان کا دوسری طاقتور ترین گروپ ہے جس نے بار بار اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

وہ تمام پولیس افسران جو مرتضٰی بھٹو کے قتل کے مقدموں میں ملزم تھے اعلٰی عہدوں پر فائز کیے گئے۔ کوئی آئی جی بنا اور کوئی کسی ضلع میں ڈی پی او لگا ہوا ہے۔

ہر سال ملک بھر میں سینکڑوں لوگ مبینہ طور پر پولیس تشدد سے حوالاتوں میں ہلاک ہوتے ہیں یا جعلی پولیس مقابلوں میں مار دیے جاتے ہیں لیکن کبھی کسی پولیس اہلکار کو اس الزام میں سزا نہیں ملی۔

نعرے بازی کرنے والے ہجوم کی طرف ڈنڈے لے کر دوڑی

پولیس اسٹیبلشمنٹ خود کو اہم کیوں نہ سمجھے۔ یہ پولیس ہی ہے جسے حکمران طبقہ سیاستدانوں کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حزب مخالف کے سیاستدانوں کو پولیس کے دباؤ سے حکمران جماعت میں شامل کرایا جاتا ہے اور پولیس کی مدد سے حکمران جماعت کے حق میں انتخابات میں جھرلو اور دھاندلی کی جاتی ہے۔

یہ پاکستان میں عام انتخابات کا سال سمجھا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر حکمرانوں کے لیے پولیس کی اہمیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ اسی نے حکمران جماعت کو لوٹے بنواکردینے ہیں اور الیکشن جیتنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ایسے موقع پر اعلی عدلیہ آئے دن پولیس کی ڈانٹ ڈپٹ کررہی تھی۔ اسے امن و امان میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دے رہی تھی۔

آخر عدلیہ کو پولیس کو آنکھیں دکھانے کی قیمت تو چکانا تھی جیسے وزرائے اعظم کو آرمی چیف سے اختلاف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ گزشتہ دنوں میں پولیس نے بھرپور طریقے سے اپنا انتقام لیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ فوج کے بعد وہ ملک کی سب سے متحد و مضبوط اسٹیبلشمنٹ ہے۔

پولیس اور حدود
حدود قوانین ، پولیس کی رائے منقسم
پولیسنیا پولیس نظام
پنجاب کے شہروں میں راہزنی میں اضافہ ہوا ہے
پولیس4 برس،118 ترامیم
سنہ 2002 کے پولیس آرڈر کی شکل ہی بدل گئی
پولیسپولیس اصلاحات
فوجی حکومت کی پولیس اصلاحات سے بدلا کیا؟
جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء ہڑتال، مظاہرے
جسٹس افتخار کی معطلی پر پیر کو ہڑتال ہوئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد