جرائم میں اضافہ اور نیا پولیس نظام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول نے اعتراف کیا ہے کہ صوبہ کے شہروں میں راہزنی (سٹریٹ جرائم) میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم شوکت عزیز نے پنجاب حکومت کو کہا تھا کہ وہ ایسے جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی کوششیں بہتر بنائے۔ نئے پولیس نظام (پولیس آرڈر مجریہ سنہ دو ہزار دو) کو نافذ ہوئے چار سال سے زیادہ ہوگئے ہیں لیکن پولیس کے نظام میں متعدد بنیادی تبدیلیوں اور پولیس کو فراہم کیے گئے فنڈز میں زبردست اضافہ کے باوجود جرائم کی روک تھام اور جرائم کی تفتیش میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی بلکہ عوام کی پولیس سے شکایات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب پولیس کا بجٹ پانچ برسوں میں نو ارب روپے سے بڑھ کر بیس ارب روپے ہوگیا ہے۔ دوسری طرف عام تاثر ہے کہ پرانا نظام تبدیل ہونے سے پولیس بے لگام ہوگئی ہے اور عام لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال (سنہ دو ہزار چھ) کے جون سے اگست تک کے تین ماہ میں راہزنی کی وارداتوں میں پچاس فیصد، ڈکیتی میں پندرہ فیصد، قتل میں دس فیصد اور چوری کی وارداتوں میں اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا۔ پنجاب جرائم کی شرح میں یہ اضافہ اس بات کے باجود ہے کہ پولیس اکثر و بیشتر ڈکیتی کی وارداتوں کا مقدمہ چوری کی دفعات کے تحت درج کرتی ہے اور راہزنی کے بیشتر جرائم درج ہی نہیں کیے جاتے۔ پولیس اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے پینتیس ضلعوں میں ہر روز اوسطا چار سے پانچ ڈکیتیاں ہوتی ہیں جبکہ ہر روز اخبارات میں درجنوں ڈکیتیوں کی وارداتوں کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔
دو ماہ قبل وزیر اعلی پنجاب کو لاہور پولیس کی طرف سے دی گئی ایک بریفنگ میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب لاہور پولیس نے دعوی کیا کہ اس سال کے پہلے دس ماہ میں سڑکوں پر موبائل فون چھیننے کی صرف ایک سو وارداتیں ہوئیں۔ اسی بریفنگ میں جب ایمرجنسی شکایت سیل نے اپنی کارکردگی بتائی تو اس نے کہا کہ اسے ہر روز موبائل فون چھیننے کی تیس شکایات موصول ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے پولیس کے دو شعبوں کے اعداد و شمار میں بڑا فرق تھا جو پولیس کی جرائم کو چھپانے اور مقدمے درج نہ کرنے کے رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی اور انسپکٹر جنرل پولیس میجر ضیاءالحسن کے دعووں کے برعکس عام لوگوں کا تجربہ یہ ہے کہ چوری، ڈکیتی، موبائل فون اور موٹر سائکل کی راہزنی (سٹریٹ جرائم) پر پولیس مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتی ہے اور کئی مرتبہ تو ایف آئی آر رشوت دے کر ہی درج کرائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی شکایات عام ہیں۔ نئے پولیس نظام کے نافذ ہونے کے بعد پولیس اہلکار لوگوں کے خاندانی معاملات اور جائداد کے جھگڑوں میں زیادہ دخل دینے لگے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس ایک فریق سے رشوت لے کر دوسرے فریق کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمہ قائم کردیتی ہے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان جائیداد کے دیوانی معاملات کو فوجداری بنا کر کمزور فریق کو دباؤ میں لایا جا سکے اور اسے کم تر شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیاجا سکے۔ پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو کی ساخت میں ایسے احکامات ہیں جن سے نچلی سطح پر پولیس اہلکاروں کو اپنی من مانی کرنے اور ان کے احتساب کرنے کا نظام پہلے کے مقابلہ میں کمزور ہوگیا ہے۔ پولیس کا نیا قانون سنہ دو ہزار دو میں اس دعوے کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا کہ پرانا قانون نو آبادیاتی حکمرانوں کی یادگار تھا اور ا س کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا نہیں تھا اور نیا قانون ایک آزاد قوم کے شہریوں کی خدمت پر مامور پولیس نظام مہیا کرے گا۔ اس نئے قانون کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کا دعوی کیا گیا تھا۔ قومی تعمیِر نو بیورو کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل تنویر نقوی کی نگرانی میں اس قانون کو بنانے والے پولیس افسران جیسے افضل شگری اور شعیب سڈل وغیرہ جاپان کے پولیس نظام سے خاصے متاثر تھے جو ان کے خیال میں جاپان کو نیا قانون دینے والے امریکی جنرل میک آرتھر کا بڑا کارنامہ تھا جس میں پولیس کو جمہوری کنٹرول میں دیاگیا تھا لیکن اسے سیاسی طور پر غیر جانبدار بنایا گیا تھا۔ مطمع نظر بتایا گیا تھا کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے گا لیکن حقیقیت میں لگتا ہے کہ پولیس کا نظام مزید مرکزیت کا شکار ہوگیا ہے۔ پولیس کو ضلعی حکومت کے ماتحت نہیں کیا گیا اور اسے صوبائی کنٹرول میں رہنے دیا گیا۔ پرانے نظام میں ضلعی مجسٹریٹ کو اختیار تھا کہ وہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرے۔ نئے نظام میں ضلعی ناظم اور صوبائی محکمہ داخلہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر یہ اختیار ناظم کی بجائے پنجاب حکومت کا محکمہ داخلہ استعمال کرتا ہے۔
ضلعی ناظموں کے پاس تھانوں کے معائنہ کرنے اور غیر قانونی طور پر کسی شخص کو پولیس کی حراست میں رکھنے کے خلاف ضلعی پولیس کو کاروائی کرنے کی سفارش کرنے جیسے اختیارات حاصل ہیں جنہیں ناظمین شاذ و نادر ہی استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی حکومت نے مقامی حکومتوں کے قوانین میں ایسی تبدیلیاں کر دیں ہیں کہ جن سے ان کے اختیارات سلب کر کے انہیں وزیراعلی کا تابع بنا دیا گیا۔ اس سے بھی ناظمین کی جو نگرانی پولیس پر رکھی گئی تھی وہ عملاً ختم ہوگئی کیونکہ ان کے سروں پر وزیراعلی کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ ضلعی سیشن جج کی عدالتی کمیٹی کے پاس بھی پولیس کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرنے اور پولیس کی زیادتیوں کا نوٹس لینے کے اختیارات حاصل ہیں لیکن ماتحت عدلیہ کی نااہلی اور بدعنوانی کے باعث ان اختیارات کا بھی فائدہ عوام کو نہیں پہنچ سکا۔ (نئے پولیس نظام کے جائزہ پر مبنی اس مضمون کے دوسرے حصہ میں ہم پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں کی گئی متعدد ترامیم کا جائزہ لیں گے) | اسی بارے میں ایک خاندان کے پانچ افراد قتل02 December, 2006 | پاکستان اختیار ہمارا، ذمہ داری آپکی03 August, 2005 | پاکستان کانسٹیبل کی تنخواہ کونسلر دیں گے19 October, 2003 | پاکستان سیالکوٹ: پولیس افسران معطل04 October, 2004 | پاکستان تھانے میں لڑکی کی آبرویزی07 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||