BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 December, 2006, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس آرڈر: چار سال، 118 ترامیم

پولیس
اب تک ایک بھی پولیس پلان پیش نہیں کیا جا سکا ہے
گزشتہ چار برسوں میں پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں ایک سو اٹھارہ ترامیم کی جا چکی ہیں۔

سب سے زیادہ زد نئے قانون کے ان حصوں پر پڑی جو پولیس کے احتساب کو بہتر بنانے اور اس کی نگرانی کے کام کاج کو غیر جانبدار بنانے کے لیے رکھے گئے تھے۔

پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں پولیس پر جمہوری کنٹرول کے لیے دو ادارے رکھے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام تھا پولیس کمپلینٹ اتھارٹی جو ہر ضلع میں بنائی جانی تھی اور اس کا کام پولیس کے خلاف شکایات سننا تھا تاکہ مقدمات کے اندراج نہ ہونے یا ناجائز حراست میں رکھے جانے، یا پولیس کے تشدد کی صورت میں عوام اس سے رجوع کرسکیں۔ صوبائی حکومتوں نے ترامیم کروا کے اس ادارے کو ختم ہی کرادیا۔

پولیس پر نگرانی کے لیے دوسرا ادارہ پبلک سیفٹی کمیشن کا رکھا گیا تھا۔ اب اس کا نام پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینٹ کمیشن رکھ دیا گیا ہے۔ اس ادارے کو سیاسی طور پر غیر جانبدار ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہونے دیاگیا۔ اس کے قیام کے وقت ہی اس میں سرکاری پارلیمانی پارٹی اور حزب اختلاف کے ارکان کی برابر برابر تعداد اس میں شامل کردی گئی تھی۔

بعد میں ترامیم کرکے سرکاری پارٹی کے ارکان کی تعداد بڑھا کر کل تعداد کا نصف کردی گئی۔ گویا اگر یہ کمیشن وجود میں آ بھی جائیں تو ان سے لوگوں کو غیر جانبدارانہ طور پر کام کرنے کی توقع کم ہی ہے۔

 نئے پولیس آرڈر میں ایک شق یہ رکھی گئی تھی کہ جب ایک ضلعی پولیس افسر تعینات ہوجائے گا تو اسے تین سال تک کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اسے اس مدت سے پہلے ہٹایا نہیں جائےگا۔تاہم اس شق پر عمل نہیں کیا گیا اور صرف لاہور میں چار برسوں میں تین سٹی پولیس چیف لگائے گئے ہیں۔

پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں کہا گیا تھا کہ پبلک سیفٹی کمشین کسی جگہ تعینات پولیس افسر کی تین سال تک تقرری کو یقینی بنائے گا اور پولیس کے سالانہ پولیس پلان (پولیس کی جرائم سے نپٹنے کا منصوبہ اور ترجیحات) کو منظور کرے گا۔ ترامیم کرکے اس کا یہ کردار بھی ختم کردیا گیا۔

ترامیم کے باوجود چار سال ہوگئے پبلک سیفٹی کمشین کا ادارہ وجود میں ہی نہیں آیا۔ چند ماہ پہلے وفاقی حکومت کی سطح پر قومی پبلک سیفٹی کمیشن بنایا گیا ہے لیکن اس کا بھی اب تک ایک اجلاس منعقد نہیں ہوسکا۔صوبائی سطح پر اور ضلعوں میں صوبائی پبلک سیفٹی کمشین اور ضلعی سیفٹی کمیشن اب تک نہیں بنائے گئے۔

نئے پولیس آرڈر میں صوبے کے آئی جی کا عہدہ پالیسی بنانے اور احتساب کا عہدہ تھا لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا۔ چونکہ پولیس افسروں کی بڑی تعداد نئے نظام کی حامی نہیں تھی اس نے اس نظام پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔

پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو میں آئی جی پولیس کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ہر سال پولیس پلان پیش کرے گا کہ پولیس جرائم کی روک تھام کے لیے کیا منصوبہ اور ترجیحات رکھتی ہے لیکن اب تک ایک بھی پولیس پلان پیش نہیں کیا گیا۔

پنجاب کے 620 تھانوں میں سے 612 میں انسپکٹر بطور تھانیدار (یا ایس ایچ او) تعینات ہیں۔

دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے آئی جی حضرات پالیسی بنانے کی بجائے انتظامی امور انجام دے رہے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس کا زیادہ وقت ہزاروں ڈی ایس پی افسروں کی تقرری اور ٹرانسفر کی سفارشیں سننے اور ان پر احکامات جاری کرنے میں گزرتا ہے۔

نئی انتظامی اصلاحات میں پرانے ڈویژن ختم کردیے گئے لیکن پولیس نے ان ڈویژنوں میں قائم اپنے رینج ختم نہیں کیے بلکہ ان رینجوں میں جہاں بیس گریڈ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس تعینات ہوتے تھے ان کے عہدے بڑھا کر اکیس گریڈ کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کے عہدے بنا دیئے گئے اور پانچ بڑے شہروں۔ لاہور، راولپنڈی۔ فیصل آباد۔ ملتان۔ گوجرانوالہ میں اکیس گریڈ کے سٹی پولیس چیف کے عہدے بنا دیئےگئے۔

نچلی سطح پر بڑے گریڈ کے افسر لگانے کے باوجود مرکزیت کا یہ عالم ہے کہ ریجنل پولیس افسروں کو ضلعوں میں ایس پی یا ڈی ایس پی لگانے کا اختیارنہیں دیا گیا بلکہ یہ کام آئی جی خود انجام دے رہا ہے۔ ریجنز (سابقہ رینجز) میں آر پی او کے دفاتر ڈاکخانہ بن گئے ہیں۔

ایک طرف تو نئے نظام میں جن اختیارات کی مرکزیت کی گئی اسے صوبائی سطح کے پولیس افسروں نے بخوشی اختیار کرلیا اور جن اختیارات کو نچلی سطح پر تفویض کیا گیا تھا انہیں بھی عملاً اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

سالانہ بجٹ بھی صوبائی پولیس آفس (سی پی او) سے کنٹرول ہوتا ہے اور ہر چھوٹی بڑی مد کے لیے ضلعوں کو سی پی او سے بجٹ مانگنا پڑتا ہے۔ اختیارات کی صوبائی سطح پر مرکزیت کا نتیجہ ہے کہ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں بیٹھے پانچ بڑے پولیس افسران نہ تو خود اتنی وسیع و عریض پولیس کے ہزاروں کام صحیح طور سے انجام دے سکتے ہیں اور نہ ہی ماتحت لوگوں کو کرنے دیتے ہیں۔

نئے پولیس آرڈر میں ایک شق یہ رکھی گئی تھی کہ جب ایک ضلعی پولیس افسر تعینات ہوجائے گا تو اسے تین سال تک کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اسے اس مدت سے پہلے ہٹایا نہیں جائےگا۔

اس شق کا مقصد یہ تھا کہ بار بار سیاسی بنیادوں پر ضلعی افسروں کو تبدیل نہ کیا جائے اور ان افسروں پر یہ دباؤ نہ ہو کہ اگر انہوں نے ناجائز سیاسی احکامات نہ مانے تو انہیں تبدیل کردیا جائے گا۔ تاہم اس شق پر عمل نہیں کیا گیا۔ صرف لاہور میں چار برسوں میں تین سٹی پولیس چیف لگائے گئے ہیں۔

 دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے آئی جی حضرات پالیسی بنانے کی بجائے انتظامی امور انجام دے رہے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس کا زیادہ وقت ہزاروں ڈی ایس پی افسروں کی تقرری اور ٹرانسفر کی سفارشیں سننے اور ان پر احکامات جاری کرنے میں گزرتا ہے۔

دوسری طرف حکومت نے اس وقت پنجاب کے چھ سو بیس تھانوں میں سے چھ سو بارہ تھانوں میں انسپکٹر کے عہدے کے افسران تھانیدار (یا ایس ایچ او) تعینات ہیں۔

پہلے سب انسپکٹر عہدہ کے اہلکار بھی تھانیدار تعینات ہوا کرتے تھے۔ ضلعوں کے ایس پی حضرات نے اس قدم کی بھی خاصی مخالفت کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں ایس ایچ او لگانے کے لیے اچھے انسپکٹر نہیں ملتے اس لیے انہیں سب انسپکٹروں کو ایس ایچ او لگانے دیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسپکٹر اچھا نہیں تو اسے اس عہدے تک ترقی کیوں دی گئی۔

نئے نظام میں ایس پی حضرات کا یہ مؤقف بھی ہے کہ نئے نظام میں ان کا انسپکٹر کے عہدے تک کے پولیس اہلکاروں پر کنٹرول کمزور پڑ گیا ہے کیونکہ وہ کسی بدعنوان ماتحت اہلکار کو سزا کے طور پر ملازمت سے نکال نہیں سکتے۔

پرانے نظام میں ضلعی ایس پی کے پاس اختیار تھا کہ وہ کسی ماتحت افسر ( کانسٹیبل سے انسپکٹر کے عہدے تک) کی تعیناتی، تقرری، ٹرانسفر کرسکتا تھا اور اسے ترقی بھی دے سکتا تھا اور ملازمت سے نکال سکتا تھا۔

پنجاب کے بیشتر ضلعوں میں سیاسی بنیاد پر اٹھارہ گریڈ کے جونئیر افسران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لگائے گئے ہیں جبکہ قانون میں یہ عہدے انیس گریڈ کے افسروں کے لیے مختص ہیں۔ نئے نظام کو بخوبی موثر بنانے کا تقاضا یہ بھی تھا کہ زیادہ تجربہ کار افسر ضلعوں میں لگائےجاتے تاکہ وہ تبدیل شدہ نظام کو بہتر انداز میں رو بہ عمل لاسکتے۔

(مضمون کے تیسرے اور آخری حصہ میں ہم دیکھیں گے کہ پولیس نظام میں واچ اور وارڈ اور تفتیش کے شعبوں کے کیا اثرات ہوئے۔)

اسی بارے میں
ڈی آئی جی بنوں سپردِ خاک
19 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد