ڈي آئی جی قتل کا کوئی سراغ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دو روز گزر جانے کے باوجود ابھی تک ڈی آئی جی عابد علی اور ان کے ڈرائیور کے قتل کے واقعے کی تحقیقات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز افتخار خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ’ابھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے تاہم اس کے لیے کوششیں جاری ر ہیں۔‘ پیر کی رات کو نامعلوم مسلح افراد نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس بنوں عابد علی اور ان کے ڈرائیور امیر نواز خان کو پشاور آتے ہوئے متنی کے علاقے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ انتالیس سالہ عابد علی کو پولیس کے مطابق دس گولیاں لگیں اور موقع پر ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس حکام نے دو تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیں تھیں تاہم ابھی تک افسروں کو کوئی ایسا اہم ثبوت یا اشارہ نہیں ملا ہے جس سے تفتیش آگے بڑھ سکے۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بظاہر سست رو تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے پولیس اس واقعے کو بھی روزانہ کے واقعات کی طرح دیکھ رہی ہے۔ کئی لوگ اسے عابد علی نہیں بلکہ محمکہ پولیس پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ایف آئی آر میں بھی پولیس ہی مدعی ہے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس فیاض طورو کو تحقیقات کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی اس قسم کی کئی انکوائریز کرچکے ہیں جن کے نتائج آج تک عوام کو معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔ کئی اعلی افسران کے مطابق یہ قتل کسی ’پیشہ ور قاتل‘ کی واردات دکھائی دیتی ہے۔ پشاور میں آج شائع ہونے والے مختلف اخبارات نے تفتیشی ٹیم کے حوالے سے مختلف خبریں دی ہیں۔ ایک اخبار نے اسے ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیا ہے تو ایک اور اخبار نے اسے اغوا کی ایک کوشش کے دوران ہلاکت کہا ہے۔ اعلی پولیس حکام اس واقعے پر زیادہ بات کرنے سے کترا تے ہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مرحوم عابد علی نے بنوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی تھی جس میں وہ ہر چھوٹی بڑی کارروائی کی قیادت وہ خود کرتے تھے۔ قیاس یہ بھی ہے کہ شمالی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقع بنوں اور درہ آدم خیل کے علاقوں میں طالبانائزیشن کی لہر بھی قتل کا سبب ہوسکتی ہے۔ بنوں میں اس سے قبل بھی پولیس پر حملے ہوچکے ہیں۔ متنی کا علاقہ ایک طویل عرصے سے خراب صورتحال کی وجہ سے پشاور انتظامیہ کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ آئے دن قتل، اغوا اور لڑائیاں یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ | اسی بارے میں بنوں خود کش حملہ: پولیس اہلکار ہلاک03 December, 2006 | پاکستان ڈی آئی جی بنوں ہلاک18 December, 2006 | پاکستان ڈی آئی جی بنوں سپردِ خاک 19 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||