BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی آئی جی بنوں سپردِ خاک

ڈی آئی جی بنوں عابد علی کی نمازِ جنازہ
ڈی آئی جی بنوں عابد علی کی نمازِ جنازہ منگل کو ادا کی گئی
پشارو کے علاقے متنی میں پیر کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ضلع بنوں کے ڈی آئی جی عابد علی اور ان کے ڈرائیور کی نماز جنازہ منگل کو پولیس لائن، پشاور میں ادا کی گئی۔

جنازے میں سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی اور وزیر اعلی اکرم خان درانی کے علاوہ صوبائی وزراء، اعلی پولیس اور سول اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بعد ازاں مرحوم کی میت خصوصی طیارے میں تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر لاہور روانہ کردی گئی۔

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گورنر اور وزیراعلیٰ سرحد نے ڈی آئی جی بنوں کی ہلاکت پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور انہیں ہر صورت میں گرفتار کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سرحد نے اس موقع پر مرحوم پولیس افسر کے اہل خانہ کے لیے پچاس لاکھ روپے کا اعلان کیا جبکہ ڈی آئی جی کے اہل ِخانہ کو دس سال تک سرکاری گھر اور گاڑی کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

ڈی آئی جی بنوں عابد علی (فائل فوٹو)

سرحد پولیس کے سربراہ رفعت پاشا نے کہا ہے کہ رات کے واقعے کی تحقیقات ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں شروع کردی گئی ہے جو اس وقت بھی موقع واردات پر شواہد اکھٹے کر رہے ہیں۔ آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش میں ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اس سے قبل منگل کی صبح وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی نے گورنر ہاؤس میں گورنر علی محمد جان سے ملاقات میں امن وامان کی صورت حال کا جائزہ لیا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عابد علی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کےلیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مقصد کے حصول کےلیے تمام تر ممکنہ اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

واضع رہے کہ مرحوم ڈی آئی جی کا تعلق لاہور سے تھا لیکن ان کی بیشتر سروس صوبہ سرحد میں رہی۔ مرحوم کی شادی چارسدہ کے ایک اہم مذہبی گھرانے میں ہوئی تھی۔ عابد علی کی اہلیہ چارسدہ کے ممتاز عالم دین مولانا صاحب حق کی بھتیجی ہیں۔

اس سے قبل بنوں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس مظہر الحق کاکاخیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ رات تقریباً ساڑھے دس اور پونے گیارہ بجے کے قریب پیش آیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ڈی آئی جی بنوں سے پشاور آ رہے تھے اور پشاور کے حدود میں داخل ہی ہوئے تھے کہ سورنہار کے علاقے کے قریب ان پر فائرنگ کی گئی۔

ایس ایس پی نے مقتول ڈی آئی جی کے بارے میں بتایا کہ وہ پی ایس پی (پولیس سروس آف پاکستان) یعنی وفاق کے آفسر تھے اور 18th کامن کے تھے۔ عابد علی کا تعلق پنجاب سے تھا لیکن ان کی بیشتر سروس صوبہ سرحد میں رہی۔

مرحوم ڈی آئی جی دو مرتبہ قائد اعظم پولیس میڈل اور ایک مرتبہ پاکستان پولیس میڈل لے چکے تھے۔ بقول ایس ایس پی مظہر الحق کے ’یہ ایک بہت بہادر افسر تھے۔‘

ڈی آئی جی کے ڈرائیور امیر نواز خان بنوں کے رہائشی تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد