پولیس کی تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے پولیس نظام سے جرائم پر قابو پانےمیں جو بڑی دشواری اور عوام کی شکایات میں اضافہ کی بڑی وجہ بنی ہے وہ تفتیش کے شعبہ کی آپریشنز یا واچ اور وارڈ کے شعبہ سے علیحدگی ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ پولیس قانون میں یہ بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے قومی تعمیر نو بیورو کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل تنویر نقوی نے ان اعلٰی پولیس افسروں کی رائے کو بھی اہمیت نہیں دی جنہوں نے اس نئے نظام کا اصل ڈرافٹ تیار کیا تھا۔ پولیس کے افسران پولیس کے واچ اور وارڈ اور تفتیش کے شعبوں کو الگ تو کرنا چاہتے تھے لیکن اس طریقے سے نہیں جس طرح لیفٹیننٹ جنرل نقوی نے کیا اور جو بعد میں پولیس کی خرابیوں کی بڑی وجہ بنا۔ موجودہ نظام میں پولیس میں واچ اور وارڈ (نگرانی اور جرائم کے اندراج) اور تفتیش کے شعبوں کی علیحدگی اس طریقہ سے کی گئی ہے کہ اس سے عام آدمی کو سہولت مہیا ہونے کی بجائے اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پولیس اسٹیشن کی مرکزی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں تھانیدار کی جواب دہی کا عمل کمزور ہوگیا ہے۔ تھانہ اب پولیس کی سرگرمیوں کا مرکز نہیں ہے۔ لوگوں پریشان رہتے ہیں کہ وہ اپنا مقدمہ کہاں درج کرائیں اور تفتیش کے لیے کس کے پاس جائیں۔ پرانے نظام میں دونوں شعبے یعنی واچ اور وارڈ اور تفتیش تھانہ کی سطح پر اکٹھے تھے۔ انسپکٹر یا سب انسپکٹر کے عہدہ کا تھانیدار ضرورت کے مطابق اپنے ماتحت اہلکاروں سے دونوں کام لیتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ تفتیش کا شعبہ الگ ہے۔ اس کی الگ چین آف کمانڈ ہے۔ تفتیشی شعبہ کا انسپکٹر وغیرہ ایک ضلع میں ایک الگ ایس پی (تفتیش) کے ماتحت ہوتا ہے۔ ضلعی ایس پی (تفتیش) رینج میں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ جب واچ اور وارڈ اور تفتیش کے شعبوں کو الگ الگ کیا گیا تو پولیس کے اعلی افسروں نے بہتر عملہ، فرنیچر، گاڑیاں اور دفاتر واچ اور وارڈ (آپریشنز) کے شعبہ کو دیے جبکہ تفتیش کے شعبہ کو ہر اعتبار سے بدتر عملہ اور اشیا فراہم کی گئیں۔ صرف اسی عمل سے پولیس افسروں کے ذہن اور نئے نظام سے ان کے خلوص کی عکاسی ہوتی ہے۔
پرانے نظام میں سفارش یا سیاسی دباؤ پر کسی مقدمہ کی تفتیش کی متعدد بار تبدیلی نظام کی ایک خرابی سمجھی جاتی تھی۔ تھانیدار یا ڈپٹی ایس پی، ضلعی ایس پی، رینج میں ڈی آئی جی، صوبہ میں ڈی آئی جی کرائم اور انسپکٹر جنرل پولیس تک ہر اہلکار تفتیش تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ یہ بار بار تبدیل ہوتی رہتی تھی۔ تفتیش کی بار بار تبدیلی کو روکنے کے لیے نئے قانون میں مثبت قدم اٹھائے گئے اور پابندی لگادی گئی کہ دو مرتبہ سے زیادہ ایک مقدمہ کی تفتیش تبدیل نہیں ہوگی۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن خرابی اس نظام میں مرکزیت سے پیدا ہوئی۔ موجودہ نظام میں پہلی بار تفتیش تبدیل کرانے کے لیے رینج میں ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ضلعی ایس پی (ڈی پی او) کو بھی کوئی تفتیش تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ کسی دیہات یا قصبہ کے عام غریب آدمی کے لیے رینج میں آر پی او (یا ایڈیشنل آئی جی) تک پہنچنا آسان نہیں اور یہ عمل اتنا دشوار اور طویل ہے کہ جب تک تفتیش تبدیل ہو اس وقت تک تفتیشی افسر اپنا کام یا تو مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کردیتا ہے یا کمزور فریق کو اتنا تنگ کرچکا ہوتا ہے کہ اس کے لیے تفتیش میں تبدیلی کی بے معنی ہوجاتی ہے۔ موجودہ نظام میں تفتیش میں دوسری تبدیلی کی درخواست صوبائی دارالحکومت میں ایڈیشنل آئی جی (تفتیش) کو دی جاسکتی ہے۔ یوں یہ نظام مرکزیت کا نمونہ بن چکا ہے اور نچلی سطح کے بدعنوان اہلکاروں کی موج ہوگئی ہے۔ ان دو شعبوں کی علیحدگی کا ایک اور نقصان یہ ہوا کہ دونوں کا عملہ میں ایک تناؤ اور کش مکش رہتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر جرائم کی ذمہ داری ڈالتے ہیں۔ دونوں کے درمیان موثر رابطہ کا فقدان ہے۔ لاہور میں تو ایک وقت تھا کہ تفتیش کے ایس ایس پی اور آپریشنز کے ایس ایس پی کے درمیان بول چال تک نہیں تھی۔ پولیس کے یہ دونوں شعبے ایک دوسرے کو اپنا ساتھی اور مددگار سمجھنے کی بجائے حریف سمجھتے ہیں۔ شائد زیادہ رشوت کھانے کے مواقع میں حریف۔
ان حالات کے مدنظر کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی صوبائی حکومت نے دونوں شعبوں کو ڈی ایس پی (ایس ڈی پی او) کے ماتحت اکٹھا کردیا جو کہ پولیس آرڈر مجریہ سنہ دو ہزار دو کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس وقت عملاً صورتحال یہی ہے۔ تھانہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک اور قدم اٹھایا کہ لاہور، گوجرنوالہ، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں ہر تھانہ میں ڈی ایس پی یا ایڈیشنل ایس پی کے عہدے کا ایک سینئیر ایس ایچ او مقرر کردیا لیکن اس سے ایس ایچ اور اور سینئیر ایس ایچ او کے درمیان جھگڑے ہونے لگے اور حکومت کو اس میں ترمیم کرنی پڑی اور ہر دو تھانوں پر ایک ایس پی مقرر کرنا پڑا۔ یوں پولیس کا موجودہ نظام افراتفری، انتشار اور مرکزیت کا شکار ہے۔ نئے قانون میں متعدد رجعت پسندانہ ترامیم اور اس کے مثبت حصوں پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونے کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکمرانوں کی توجہ نظام کو بہتر بنانے کی بجائے میڈیا کے ذریعے بلند بانگ دعوے کرنے پر مرکوز ہے۔ دوسری طرف، کسی سول سوسائٹی کے ادارہ یا سیاسی جماعت نے بھی اس موضوع پر کوئی ایسا موقف اختیارنہیں کیا جس سے حکومت پر جرائم کی روک تھام کے نظام اور پولیس آرڈر میں مثبت تبدیلی کے لیے دباؤ پڑے۔ | اسی بارے میں پولیس آرڈر: چار سال، 118 ترامیم21 December, 2006 | پاکستان جرائم میں اضافہ اور نیا پولیس نظام19 December, 2006 | پاکستان ڈي آئی جی قتل کا کوئی سراغ نہیں 20 December, 2006 | پاکستان ڈی آئی جی بنوں سپردِ خاک 19 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||