BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 April, 2007, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس معطلی:ایک اور جج مستعفی

وکلاء کے احتجاج کو منگل کوایک ماہ مکمل ہو گیا
بھکر کے ایک ایڈیشنل جج نے چیف جسٹس افتخار سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاجاً استعفی دے دیا ہے۔

بھکر میں پنجاب بار کونسل کے رکن رانا وکیل اختر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج قاضی وقار احمد نے سوموار کی شام مقامی وکلا کو بتادیا تھا کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جج نے سیشن جج کے ذریعے اپنا استعفی لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھجوایا ہے۔

مقامی وکیل کے مطابق منگل کی صبح قاضی وقار احمد عدالت میں نہیں آئے اور بھکر چھوڑ کر اپنے رہائشی شہر پنڈی گھیپ چلے گئے۔

جج کے استعفی پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ وقار احمد کے اس قدم سے وکلا کی عدلیہ کی آزادی کے لیے چلائے جانے والی تحریک مضبوط ہوگی۔

 وکلاء کی تحریک سے حکومت کے ایوانوں میں ہل چل مچ گئی ہے۔ ہماری جدوجہد عدلیہ کی آزادی کے لئے ہے مگر اس کے سیاسی اثرات بھی ہوئے ہیں
افتخار جاوید قاضی

وقار احمد پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے دوسرے جج ہیں جو چیف جسٹس افتخار چودھری کے معاملہ پر احتجاج مستعفی ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بہاولپور کے جج سعید خورشید مستعفی ہوئے تھے۔

ادھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی کے خلاف وکلاء کے احتجاج کو منگل کو ایک ماہ مکمل ہوگیا۔

کراچی میں منگل کو ایک گھنٹہ عدالتی کارروایوں کا بائیکاٹ کیا گیا اور سٹی کورٹ سے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا گیا۔

کراچی بار کے دفتر کے احاطے میں دس وکلا نے صبح دس بجے سے شام چار بجے تک بھوک ہڑتال بھی کی۔

کراچی بار ایسو سی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ وکلا کی تحریک سے حکومت کے ایوانوں میں ہل چل مچ گئی ہے۔ ان کے مطابق ’’ ہماری جدوجہد عدلیہ کی آزادی کے لئے ہے مگر اس کے سیاسی اثرات بھی ہوئے ہیں “۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا کی جدو جہد کی وجہ سے اب پرویز مشرف کا وردی میں دوسری بار صدر بننا ممکن نہیں رہا ہے۔

ایم اے جناح روڈ پروکلاء نےدھرنا دیا
ایم اے جناح روڈ پروکلاء نےدھرنا دیا

افتخار جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ قاف نے صدر پرویز مشرف کی حمایت کی تھی، اب مشرف پاکستان پیپلز پارٹی سے مدد مانگ رہے ہیں اب مسلم لیگ قاف بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وکلا کی تحریک کے ملکی سیاست پر گھرے اثرات ہوئے ہیں مگر وکلا کا مقصد صرف عدلیہ کی بحالی ہے کیونکہ عوام کے پاس سوائے عدلیہ کے ایسا کوئی فورم نہیں ہے جہاں وہ اپنے مسائل لیکر جائے ۔

کراچی بار کے صدر کا کہنا تھا کہ حکومت نے وکلا کی تحریک کو سست کرنے کے لئے جوڈیشل کاؤنسل کی تاریخ بڑہائی ہے مگر وکلا نے بھی اس کے تحت اپنی منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمع کو سپریم جوڈیشل کاؤنسل میں سماعت کے موقع پر ملک بھر میں عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اس سے ایک روز قبل اسلام آباد میں وکلا کا کنوینش ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد