وکلاء کے خلاف تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس میں حکومت کے وکیل خالد رانجھا کی درخواست پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے وکلا کے خلاف شروع کردہ تحقیقاتی کارروائی سات اپریل تک ملتوی کردی ہے۔ خالد رانجھا نے قائم مقام چیف جسٹس سے شکایت کی تھی کہ معطل چیف جسٹس کے حامی بعض جونیئر وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل میں حکومت کا دفاع کرنے کی بنا پر ان سے بدسلوکی کی ہے اور وہ اس مقدمے میں اپنے فرائص انجام دینے سے قاصر ہیں۔ عدالت نے ان کی درخواست پر رجسٹرار کو انکوائری افسر تعینات کیا اور انہوں نے مسلسل دو روز تک متعلقہ وکلاء اور بعض پولیس اہلکاروں کے بیان قلمبند کیے۔ جمعرات کو رجسٹرار نے بیان لینے کے لیے سپریم کورٹ، پنجاب اور راولپنڈی بار کونسلز کے ایک درجن کے قریب وکلاء کو بلایا۔ اس دوران وزارت قانون کے ترجمان چودھری عارف ایڈووکیٹ بھی موجود رہے اور انہوں نے رجسٹرار کو بتایا کہ شکایت کنندہ خالد رانجھا مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکے۔ سپریم کورٹ کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ وکلاء کے موقف سے چودھری عارف نے اتفاق کیا کہ وکلاء کے درمیاں بہتر تعلقات برقرار رکھنے چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو مل بیٹھ کر معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے۔ بیان کے مطابق وکلا برادری کو کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے وقت دیتے ہوئے اتفاق رائے سے مزید کارروائی سات اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ |
اسی بارے میں سرکار کے وکیل وسیم سجاد 03 April, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، وکلاء کے مظاہرے03 April, 2007 | پاکستان افتخار: حکومتی وکلاء کا انکار03 April, 2007 | پاکستان تیرہ اپریل کو وکلاء ہڑتال کا اعلان04 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||