ریٹائرڈ کرنل نے تمغے واپس کردیئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت کے دوران جہاں بعض دلچسپ واقعات پیش آئے وہاں ہاتھا پائی اور مار کٹائی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ ایک وکیل انور خان آفریدی جو ریٹائرڈ کرنل بھی ہیں انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے تمغہ شجاعت سمیت فوجی ملازمت کے دوران حاصل کردہ آٹھ تمغے پھینکتے ہوئے کہا کہ جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوتی اور آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوتی وہ اپنا اپنے نام کے ساتھ کرنل کا لفظ استعمال نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ آج چند فوجی جرنیل کر رہے ہیں اس سے ایک طرف فوج بدنام ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ملک کے آئین اور قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ہاتھا پائی اور مار کٹائی اس وقت شروع ہوئی جب بعض کالے کوٹ میں ملبوس افراد نے سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیے۔ جس پر وہاں موجود معطل چیف جسٹس کے حامی وکلا نے صدر کے حق میں نعرے لگانے والوں کو مارنا اور پیٹنا شروع کردیا۔ مار کٹائی کے دوران ایک صدر کے حامی کے کپڑے پھٹ گئے اور ان کی شرٹ اتر گئی۔ اس شخص نے بعد میں اپنا نام محمد فیاض ولد علی احمد بتایا اور کہا کہ وہ گجرات سے آئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ بیس ساتھی ہیں اور ان میں کچھ وکلا بھی شامل ہیں لیکن کچھ لوگ کالے کوٹ پہن کر آئے ہیں۔ کالے کوٹ پہن کر آنے والوں میں سے ایک شخص نے اقرار کیا کہ وہ حساس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس پر وکلا نے بعد میں اس سے جہاں توبہ کروائی وہاں معافی بھی منگوائی۔ صدر کے حق میں نعرے لگانے والوں کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کے دوران پیپلز رائٹس موومنٹ کے کارکنان نے ایک نیا نعرہ بھی لگایا ’یہ جمہوریت جھوٹی ہے۔۔ یہاں ساری جنتا بھوکی ہے،۔ جہاں جماعت اسلامی کے کارکن نعرہ لگاتے رہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ۔۔ لااللہ الاللہ وہاں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے کارکنوں نے نعرہ لگایا کہ ’پاکستان کا مطلب کیا۔۔لاٹھی گولی مارشل لاء‘۔ منگل کو ہونے والے مظاہرے کے شرکاء کی تعداد ماضی کی نسبت زیادہ اور پرجوش نظر آئی۔ تمام جماعتوں کے کارکن علیحدہ علیحدہ گروہوں کی شک میں نعرے لگاتے رہے۔ مسلم لیگ نواز کے بعض حامی وہیل چیئر پر بیٹھ کر آئے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان میں فوج کے خلاف قرار داد19 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||