فوج کی مجبوری اسکا ڈسپلن ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے بارے میں اب تک جو منصوبے پیش کیئے ہیں اس پر نہ تو فوج کو اور نہ ہی عوام کو اعتماد میں لیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں دفتر خارجہ کے تازہ بیان پر بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے کشمیر پر جوتازہ چار نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے وہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ اہم قومی امور پر نہ تو پہلے کبھی پاکستانی قوم اور نہ ہی پاکستان فوج کو کبھی اعتماد میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا ’ کیا پاکستانی عوام کو یا فوج کو پہلے کبھی بتایا کہ پسِ پردہ کیا بات ہوتی ہے کیا فیصلے کیئے جاتے ہیں۔‘ فوج کے سابق سربراہ نے کہا کہ فوج کی مجبوری اس کا ڈسپلن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا بات کتنی ہی نامعقول ہو فوج ماننے پر مجبور ہوتی ہے تو انہوں نے کہا کہ آج تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ فوج میں انتشار پھیلے لیکن فوج اپنے سربراہ کی ہر معقول اور نامعقول بات ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر صدر جنرل مشرف نے اس سے پہلے بھی کئی فارمولے اور منصوبے پیش کیئے ہیں لیکن کوئی فارمولہ کامیاب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہ جنرل مشرف کا تازہ ترین چار نکاتی فارمول بھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا حل اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنرل مشرف کے آگرہ دورے سے پہلے بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے کہ قریب ہے لیکن آخری لمحوں میں روکاوٹ آ گئی۔ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ بھارت نے آج تک کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں آخری فیصلہ کشمیر عوام کو کرنا ہے جو ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سولہ سترہ سالوں میں نوے ہزار جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’فیصلہ وہی کرتے ہیں جو قربانیاں دیتے ہیں‘۔ جب تک کشمیری عوام کی مرضی شامل نہیں ہو گی صدر جنرل پرویز مشرف جتنے فارمولے پیش کرلیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ چاہے وہ عراق ہو یا افغانستان ہو یا کشمیر فیصلہ وہی کرتے ہیں جو جانوں کی قربانیاں دیتے ہیں۔ افغانستان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر ’یوٹرن‘ لیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان طالبان سے بات کرنے پر مجور ہے اور نیٹو کو بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ طالبان سے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور انہیں کسی صورت علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ جنرل ضیاء نے اسلام کے نام پر اپنے ریفرنڈم میں ووٹ مانگے اور جنرل مشرف روشی خیال کا نام لیے کر عوام سے اپنے حمائتیوں کا کامیاب کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں باتوں میں زیادہ فرق نہیں لیکن پاکستان عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صاف ستہرا جمہوری نظام چاہتے ہیں جس کی بنیاد قران اور سنت پر ہو۔ | اسی بارے میں ’کشمیر سے دستبردار ہونے کو تیار‘11 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں ہے‘11 December, 2006 | پاکستان ’یو ٹرن لینے سے فرق نہیں پڑتا‘11 December, 2006 | پاکستان کشمیر: ’مشرف کو یہ اختیار نہیں‘05 December, 2006 | پاکستان مذاکرات کے التوا پر ملا جلا ردعمل20 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||