BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 05:56 GMT 10:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات کے التوا پر ملا جلا ردعمل

سردار قیوم
’انتہا پسند قوتوں کو ناکام بنانے کے لیئے امن کا عمل جاری رکھیں‘
ممبئی بم دھماکوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ملتوی کیئے جانے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اہم سیاسی رہنما اور سابق وزیر سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ ’انتہا پسند قوتوں کی کوشش ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کا عمل آگے نہ بڑھے‘۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو انتہا پسند قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننا چاہیئے اور یہ کہ امن کے عمل کو تخریی کارروائی کا شکار نہیں ہونے دیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں انتہا پسند قوتوں کو ناکام بنانے کے لیئے امن کے عمل کو پوری قوت جرات مندی اور تیزی سے آگے بڑھائیں۔

لیکن کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کا موقف بالکل برعکس ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی امن کا عمل ایک بے کار مشق ہے اور اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’تنازعہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان کوئی باہمی تنازعہ نہیں ہے بلکہ کشیری ہی اس مسئلے کے بنیادی اور اہم فریق ہیں اور کشمیریوں کو مذاکرات میں شامل کیئے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان امن کا عمل بے سودہے‘۔

حزب مخالف کی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سربراہ اسحاق ظفر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن کا عمل جاری رہنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو چاہیئے کو وہ بات چیت جاری رکھیں کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق بات چیت میں ہی مسائل کا حل ہے۔

ممبئی میں بم دھماکوں کے بعد بھارت نے دونوں ملکوں کےدرمیان بیس اور اکیس جولائی کو ہونے والے خارجہ سیکریڑی کی سطح کے مذاکرات یہ کہہ کر موخر کردیئے کہ اس کے لیئے ابھی مناسب وقت نہیں اور نئی تاریخیں آئندہ طے کی جائیں گی ۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بدھ کے روز پاکستان کی نیشنل اسکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مذاکرات ملتوی کیئے جانے کو افسوسناک قراد دیا اور کہا تھا کہ دہشتگردی کی وارداوتوں کی بنا پر امن مذاکرات ملتوی کرنا دہشت گردوں کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد