BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 December, 2006, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے

احتجاج
باجوڑ میں اسّی افراد کی ہلاکت پر ملک گیر احتجاج ہوا
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سال بھی وہی کہانی دہرائی جاتی رہی جو گزشتہ کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ القاعدہ کی تلاش میں ان گنت فوجی کارروائیاں، سینکڑوں ہلاکتیں، متضاد دعوے اور امن معاہدے۔

اس سال کا آغاز غیرمتوقع طور پر شمالی یا جنوبی وزیرستان میں کسی لڑائی سے نہیں بلکہ باجوڑ میں ایک گاؤں پر امریکی بمباری سے ہوا۔ ڈمہ ڈولہ گاؤں کے تین مکانات پر بمباری سے اٹھارہ افراد جن میں عورتیں بھی شامل تھیں ہلاک ہوئے اور پاکستان نے امریکہ سے سرکاری سطح پر احتجاج بھی کیا۔

دوسری جانب کئی ماہ کی لڑائی کے بعد ستمبر میں شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ ہوا اور حکومت کی توجہ بظاہر ایک مرتبہ پھر باجوڑ کی جانب ہوئی اور اختتام سال کے قریب بھی ایک مدرسے پر بمباری میں اسی افراد ہلاک ہوئے۔

قبائلیوں کے مطابق ہلاک ہونے والے سب مدرسے کے کم عمر طلبہ یا اساتذہ تھے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ اس مقام پر خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی تھی۔ سچ کیا تھا ڈمہ ڈولہ سے لے کر مولوی لیاقت کے مدرسے تک کچھ کہنا مشکل ہے۔

ڈمہ ڈولہ میں بمباری سے تباہ ہونے والے مکانات

ڈمہ ڈولہ کے واقعے کے کچھ عرصے بعد پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان میں سرحدی قصبے ڈانڈے سیدگئی کا رخ کیا۔ وہاں فوجی حکام کے مطابق ایک تربیتی مرکز پر حملے میں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد عوامی غم وغصے نے ایسی شکل اختیار کی کہ خود شاید حکومت بھی اس کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ مقامی عسکریت پسندوں یا طالبان نے میران شاہ میں سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کوشش کی، شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد انتظامیہ کو کئی روز تک شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔اس سے معمولات زندگی مفلوج ہوئے اور ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی۔ فوج نے شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اگست تک سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان میں لڑائی کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کو سخت جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔

اس دوران صوبہ سرحد میں گورنر کی تبدیلی سے بہتری کی اُمید پیدا ہوئی۔ نئے گورنر لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی اور وزیر اعلی سرحد اکرم خان دّرانی نے مل کر گرینڈ قبائلی جرگے کی تشکیل کی کوششیں کیں۔

میران شاہ بھی فوج اور شدت پسندوں میں جھڑپوں کا مرکز رہا

جرگے نے عارضی جنگ بندی کروائی جس نے بالآخر پانچ ستمبر کو ایک حمتی امن معاہدے کی شکل اختیار کر لی۔ معاہدے سے لڑائی تو رک گئی تاہم سرکاری رٹ اب بھی کمزور دکھائی دیتی ہے۔

اس سال قدرے پرامن تصور کی جانے والی خیبر ایجنسی میں بھی دو مذہبی گروپوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی جو اب تک وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اس لڑائی میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ باڑہ میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔

گزشتہ چند برسوں کی طرح یہ سال بھی قبائلی صحافیوں کے لیئے خطرناک رہا۔ نوجوان صحافی حیات اللہ کی لاش ملی اور دلاور خان وزیر کو اسلام آباد جیسے مقام سے اغوا کیا گیا۔

ملک کی تاریخ میں فوج کے خلاف درگئی جیسا بڑا حملہ ہوا

پشاور کے صحافی اور صحافتی حقوق کے لیئے سرگرم بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز سانز فرنٹئیر کے اقبال خٹک سے دریافت کیا گیا کہ صحافیوں کے لیئے کیا اشارے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری کے کوئی آثار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حیات اللہ کے قتل کی تحقیقات کے لیئے ایک عدالتی کمیشن اور دو کمیٹیاں قائم ہوئیں جنہوں نے اپنی رپورٹیں حکومت کو پیش کر دی ہیں تاہم یہ ابھی عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

اقبال کا کہنا تھا: ’عوام کو حقائق نہیں بتائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں قبائلی صحافی شدید خوفزدہ ہیں۔اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی نہیں چاہتا کہ علاقے سے سچ باہر آئے‘۔

شاید یہی سچائی کی کمی بین الاقوامی سطح پر شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ ایسے میں طالبان اور غیرملکیوں کے وہاں دندناتے ہوئے پھرنے، ان کی رٹ کے چلنے اور تربیتی مراکز کی موجودگی کی افواہوں کو باہر کی دنیا سچ ماننے لگی ہے۔

حیات اللہ سچ کی تلاش میں اپنی جان سے گئے

ویسے پاکستان ان الزامات کی تردید کرتے کرتے یقیناً تھک چکا ہوگا۔ تاہم الزامات کی صحت پر بظاہر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔ یہی سوال میں نے قبائلی دانشور کرنل ریٹائرڈ حمید آفریدی کے سامنے رکھا۔ ان کا موقف تھا کہ سرحد پار مشتبہ افراد کی آمد و رفت روکنا کرزئی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔

قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کا ردعمل صوبہ سرحد میں بھی سامنے آیا۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بم دھماکوں کے علاوہ خودکش حملے پہلی مرتبہ نہ صرف قبائلی علاقوں میں بلکہ درگئی اور پشاور جیسے مقامات پر بھی ہوئے۔ ان میں ملک کی تاریخ میں فوج کے خلاف درگئی جیسا بڑا حملہ ہوا جسے مبصرین چند روز قبل باجوڑ مدرسے کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

اس سال قبائلی علاقوں میں لگی آگ بظاہر اب وہیں تک محدود نہیں رہی۔

بات سیدھی ہے نہیں
درگئی، باجوڑ کو جوڑنا عجلت میں کیا اعتراف؟
باجوڑ باجوڑ: دس روز بعد
بمباری کے بعد عنایت کلی سے چند تصاویر
باجوڑ بمباری
ہلاکتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج
قبائلی علاقوں میں حملہواویلہ پھر خاموشی
باجوڑ کے بعد کس نے کیا کیا؟ عامر احمد خان
وزیرستان امن معاہدہ
فریقین معاہدے پرعمل کریں گے: رکن جرگہ
ظلم کرے گا تو۔۔
پاکستان کیساتھ معاہدہ ختم ہوسکتا ہے: فقیرمحمد
باجوڑ: خوش آمدید
ایمن الظواہری آئیں تو فخر ہوگا: مُلا فقیر محمد
اسی بارے میں
’ایجنسیوں نےقتل کیا‘
05 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد