’ایجنسیوں نےقتل کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صحافیوں کی مرکزی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ خان کو خفیہ اداروں نے قتل کیا تھا۔ صحافیوں کی مرکزی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس کی جانب سے ریلیز کی گئی یہ رپورٹ منگل کے روز پشاور پریس کلب میں مرحوم صحافی حیات اللہ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں جاری کی گئی۔ تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ پشاور اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اخبار نویسوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا اہتمام خیبر یونین آف جرنلسٹس ، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس اور صحافیوں کی حقوق کےلئے سرگرم عمل بین الاقوامی فرانسیسی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کیا تھا۔ کے ایچ یو جے کے صدر انتخاب امیر کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ مرحوم صحافی حیات اللہ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواء کرکے قتل کیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت نے قبائلی صحافی کے قتل کے حوالے سے اب تک تین انکوائریاں مکمل کی ہیں لیکن تاحال کوئی بھی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔ اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے صوبائی صدر رحیم داد خان ، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیلاب محسود ، حضرت خان مہمند اور انصر عباس نے مرحوم صحافی کوشاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو فوری طور پر بے نقاب کیا جائے ۔ مقررین نے حالیہ دنوں میں صحافیوں کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اخبار نویسوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر پاکستان میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے نمائندے اقبال خٹک نے تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان تقریب میں پڑھ کر سنایا جس میں پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ خان کو ایک سال قبل پانچ دسمبر کو شمالی وزیرستان میں اغواء کیا گیا تھا۔ وہ چھ ماہ تک لاپتہ رہے اور بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے لیئےصحافتی ایوارڈ14 October, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ قتل انکوائری17 September, 2006 | پاکستان حیات اللہ کا قتل‘ طالبان کا انکار20 June, 2006 | پاکستان ’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر19 June, 2006 | پاکستان ’حیات اللہ کو جال میں پھنسایا گیا‘18 June, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||