BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 December, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایجنسیوں نےقتل کیا‘

مقررین نےصحافیوں کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کی سخت مذمت کی
پاکستان میں صحافیوں کی مرکزی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ خان کو خفیہ اداروں نے قتل کیا تھا۔

صحافیوں کی مرکزی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس کی جانب سے ریلیز کی گئی یہ رپورٹ منگل کے روز پشاور پریس کلب میں مرحوم صحافی حیات اللہ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں جاری کی گئی۔ تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ پشاور اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اخبار نویسوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا اہتمام خیبر یونین آف جرنلسٹس ، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس اور صحافیوں کی حقوق کےلئے سرگرم عمل بین الاقوامی فرانسیسی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کیا تھا۔

کے ایچ یو جے کے صدر انتخاب امیر کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ مرحوم صحافی حیات اللہ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواء کرکے قتل کیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت نے قبائلی صحافی کے قتل کے حوالے سے اب تک تین انکوائریاں مکمل کی ہیں لیکن تاحال کوئی بھی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت حقائق کو چھپانا چاہتی ہے۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے صوبائی صدر رحیم داد خان ، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک ، ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیلاب محسود ، حضرت خان مہمند اور انصر عباس نے مرحوم صحافی کوشاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو فوری طور پر بے نقاب کیا جائے ۔

مقررین نے حالیہ دنوں میں صحافیوں کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اخبار نویسوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس موقع پر پاکستان میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے نمائندے اقبال خٹک نے تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان تقریب میں پڑھ کر سنایا جس میں پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی کارروائیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قبائلی صحافی حیات اللہ خان کو ایک سال قبل پانچ دسمبر کو شمالی وزیرستان میں اغواء کیا گیا تھا۔ وہ چھ ماہ تک لاپتہ رہے اور بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔

اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ قتل انکوائری
17 September, 2006 | پاکستان
صحافی حیات اللہ کا قتل
16 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد