BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیات اللہ کے لیئےصحافتی ایوارڈ

سی جے ایف ای دنیا بھر سے دو صحافیوں کو اس ایوارڈ کے لیئے منتخب کرتی ہے
صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے لیئے دنیا بھر میں کام کرنے والی تنظیم ’کینیڈین جرنلسٹس فار فری ایکسپریشن‘ یا سی جے ایف ای نے شمالی وزیرستان میں اغواء کرکے قتل کیے جانے والے پاکستانی صحافی حیات اللہ کو اس سال انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ یعنی بین الاقوامی آزادی صحافت کا اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔

سی جے ایف ای کی ایوارڈ کمیٹی کی چیئر پرسن اور کینیڈین صحافی کیرول آف نے بتایا کہ اس سال کے ایوارڈ کے لیئے منتخب افراد کا انتخاب ان ممالک سے کیا گیا ہے جہاں پر صحافیوں کو اپنے پیشے کو سرانجام دینے کے لیئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان افراد نے صحافتی فریضے کوبخوبی سے سرانجام دیتے ہوئے ہمیشہ سچ لکھا اور دنیا کو ان ممالک میں بسنے والے افراد کے بارے میں خبروں سے آگاہ رکھا ہے۔

سی جے ایف ای اس سے قبل دنیا بھر سے دو صحافیوں کو اس ایوارڈ کے لیئے منتخب کرتی رہی ہے مگر اس برس پاکستانی صحافی حیات اللہ مرحوم کوخصوصی طور پر اس ایوارڈ کے لیئے منتخب کیا گیا ہے۔ فاٹا کے علاقے میں کام کرنے والے مرحوم صحافی حیات اللہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں اغواء کیا گیا تھا اور ان کی ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی لاش سولہ جون دو ہزار چھ کو شمالی وزیرستان سے ملی تھی۔

کیرول
سی جے ایف ای کی ایوارڈ کمیٹی کی چیئر پرسن اور کینیڈین صحافی کیرول آف

حیات اللہ کے اعزاز میں اس ایوارڈ کا اعلان یکم نومبر سن دو ہزار چھ کی شام کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں کینیڈین جرنلسٹس فار فری ایکسپریشن کے زیراہتمام منعقدہ سالانہ تقریب انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈز کے دوران کیا جائے گا۔

صحافی حیات اللہ کے علاوہ ایک نوجوان مصری صحافی عبیر العسکری اور کولمبیا کے صحافی ہالمین مورس کو بھی آزادی صحافت کا ایوارڈ دیا جا ئے گا۔
کیرل آف نے کہا کہ حیات اللہ کا قتل صحافیوں کے خلاف خطرناک اقدام کی ایک اہم مثال ہے اور ایوارڈ کے لیئے منتخب ہونے والے دوسرے دو افراد کے قلم کو سچ لکھنے سے روکنے کے لیئے ان کے ممالک میں موجود حکومتوں نے بھی خطرناک حربوں کا استعمال کیا ہے۔

سی جے ایف ای کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عینی گیم نے کہا ہے کہ ’حیات اللہ نے صحافتی فریضہ سرانجام دینے کے لیئے جو قیمت ادا کی ہے وہ بہت بڑی قربانی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ایسی قربانی کسی بھی صحافی کے لیئے بہت مشکل ہے اور دعا ہے کہ کسی بھی صحافی کو اس طرح کی قربانی نہ دینی پڑے۔ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ان صحافیوں نے لوگوں کو سچ سےباخبر رکھا۔ جو انتہائی قابل ستائش ہے۔ سن دو ہزار پانچ میں 63 صحافی دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ہلاک یا قتل ہوئے۔اس برس حیات اللہ سمیت53 صحافی دوران فرائض جانیں گنوا چکے ہیں۔ ہم امید کرتے ھیں کہ یہ ایوارڈ صحافیوں کے قتل عام کو روکنے کے لیئے تحریک کو اجاگر کریں گے‘۔

عینی گیم نے حکومت پاکستان سے صحافیوں کے تحفظ اور تقدس کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ان صحافیوں کو تحفظ نہیں ملے گا تو عوام میں اظہار رائے کی آزادی کیسے ہوگی۔

سی جے ایف ای دنیا کی دیگر بہتر72 صحافتی تنظیموں کے ہمراہ آئی فیکس کے پلیٹ فارم سے آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لیئے کا م کرنے والی تنظیم ہے۔

اسی بارے میں
صحافیوں کا ملک گیر احتجاج
15 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد