صحافیوں کا ملک گیر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صحافیوں کی واحد تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر جمعہ کو ملک کے کئی شہروں میں صحافیوں اور اخباری صنعت کے ملازمین نے اجرتوں کے ایوارڈ پر عملدرآمد کروانے کے لیئے احتجاجی جلوس اور مظاہرے کیئے۔ وفاقی دارالحکومت میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیرِ اہتمام اور پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت اور سیکریٹری آر آئی یو جے طارق عثمانی کی زیر قیادت صحافیوں نے بلیو ایریا سے احتجاجی جلوس نکالا جو ایوان صدر سے ہوتا ہوا پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پہنچ کر ایک جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔ جلوس میں بڑی تعداد میں اخباری کارکنوں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی جس نے متعدد بار صحافیوں کے جلوس کو رکاوٹیں کھڑی کر کے ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنے سے روکنے کی ناکام کوشش کی۔ اسلام آباد میں دو روز قبل پی ایف یو جے کی گورنگ کونسل کے رکن اور سینیئر صحافی سی آر شمسی پر وفاقی وزیرِ محنت کے محافظ اور ڈرائیور کی طرف سے حملے کے واقعہ کی وجہ سے صحافیوں کی جذبات کافی مشتعل تھے۔ صحافیوں کا جلوس جب پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچا تو پارلیمنٹ کی کارراوئی پر معمور صحافیوں اور حزب اختلاف کے کئی ارکان بھی پارلیمان ہاؤس سے باہر نکل کر جلسے میں شامل ہو گئے۔ احجتاجی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ عید سے قبل ویج ایوراڈ تمام اخبارات میں نافذ کرا دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سندھ کے صوبائی دارالحکومت میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام اور پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس اور سینئر صحافی عبدالحمید چھاپرا کی قیادت میں ویج ایواڈ نافذ کروانے کے لیئے اجتجاجی جلوس نکالا گیا اور گورنر ہاوس کے سامنے دہرنا دیا گیا۔
جلوس کے شرکاء ویج بورڈ نافذ کرو، صحافیوں کا قتل عام بند کرو اور صحافیوں پر تشدد نامنظور کے نعرے بلند کررہے تھے۔ احتجاجی جلسے سے مظہر عباس، عبدالحمید چھاپرا اورصحافی تنظیموں کے دیگر نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک صحافی حیات اللہ کے قتل کی رپورٹ منظر عام نہیں آئی کے ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافی حسین سیال کوقتل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عید تک حکومت نے اخبارای مالکان کو ویج ایوراڈ کے تحت تنخواہیں ادا کرنے پر مجبور نہ کیا تو صحافی اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسلام آباد کی طرف مارچ کے فیصلے پر ملکی حالات کی وجہ سے عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔ پشاور سےرفعت اللہ اورکزئی نے اطلاع دی ہے کہ پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس نے جمعہ کے روز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ساتویں ویج ایوارڈ کے نفاذ اور ڈیرہ اسمعیل خان میں مقامی صحافی کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ پشاور پریس کلب کے سامنے جمع ہونے والے صحافیوں نے پندرہ منٹ تک مسلسل ساتویں ویج ایوارڈ کے نفاذ اور اٹھویں ویج ایوارڈ کے فوری منظوری کے حوالے سے نعرہ بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بنائے گئے ایوارڈ پرعمل درآمد کویقینی بنایا جائے۔ مظاہرے کی قیادت خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سینئیر نائب صدر حضرت خان مہمند ، جنرل سیکریٹری انصر عباس اور پی ایف یو جے کے مرکزی عہدیدار ابراہیم خان کررہے تھے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جس پر ساتویں ویج ایوارڈ کے نفاذ اور ڈیرہ اسمعیل خان میں صحافی مقبول حسین سیال کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے نعرے درج تھے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سینئیر نائب صدر اور جنرل سیکریٹری نے اس موقع پر ایک قرارداد کے ذریعے سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ اسمعیل خان میں مقامی صحافی مقبول حسین سیال کے قاتلوں کو فوری طور گرفتار کیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ قرارداد میں سینئیر صحافی سی آر شمسی پر وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت غلام سرور خان کے باڈی گارڈز اور ملازمین کی جانب سے مبینہ تشدد کی بھی مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ |
اسی بارے میں صحافی پر تشدد کے خلاف بائیکاٹ ختم15 September, 2006 | پاکستان صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک 15 September, 2006 | پاکستان صحافیوں کا ملک بھر میں یوم احتجاج 22 August, 2006 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج31 May, 2006 | پاکستان پشاور میں صحافیوں کا احتجاج06 July, 2006 | پاکستان خیر ایجنسی میں تین صحافی رہا28 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||